عقیل یوسفزئی
پاکستان ایئر فورس نے گزشتہ شب افغانستان کے اہم شہر قندھار پر درجنوں فضائی اور میزائل حملے کیے جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ ٹی ٹی اے کے سربراہ مولوی ہیبت اللہ اخوند کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور درجنوں افراد کو ہلاک ، زخمی کیا بلکہ شہر میں موجود ٹیکنیکل ایکویپمنٹ سٹوریج ٹنل کو بھی تباہ کردیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے فراہم کردہ معلومات کے مطابق زیر زمین ٹنل افغان طالبان اور خوارج کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود سٹور کیا جاتا تھا۔
دوسری جانب افغان میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ قندھار پر ہونے والے پاکستانی حملوں کے دوران درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں راکٹ اور میزائل داغے گئے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران چار سے چھ ٹھکانوں یا مراکز کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں جہاں بعض اہم طالبان کمانڈروں اور جنگجووں کو مارا گیا وہاں اس اسلحے کے ڈپوز کو بھی تباہ کردیا گیا جو کہ افغان ، پاکستانی طالبان استعمال کرتے آرہے تھے۔
سوشل میڈیا پر ان حملوں کے بعد نیشنل ریزیسٹنس فورس ( این آر اے ) سمیت بہت سے معتبر صحافیوں نے بھی دعویٰ کیا کہ مولوی ہیبت اللہ اخوند کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے تاہم اس کی تصدیق نہ ہوسکی ۔ کہا گیا کہ ان کے گھر کو بھی تباہ کردیا گیا ہے تاہم وہ گزشتہ روز پاکستان کے متوقع حملوں سے بچنے کے لیے قریبی ساتھیوں سمیت کہیں اور منتقل ہوئے تھے ۔ اس قسم کی اطلاعات بھی زیر گردش رہیں کہ کابل سے بھی طالبان کے متعدد وزراء اور لیڈرز بھی حملوں کے خوف سے ہیلی کاپٹروں میں کہیں اور منتقل ہوگئے ہیں کیونکہ انٹلی جنس نے اس قسم کی اطلاعات فراہم کی تھیں کہ پاکستان ہائی ویلیو ٹارگٹس کو نشانہ بناسکتا ہے۔
قبل ازیں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے اس بیان کو ملکی اور غیر ملکی میڈیا نے بہت ہائی لائٹ کیا جس میں انہوں نے پہلی بار افغانستان کی طالبان لیڈر شپ اور حکومت کو بہت سخت لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان اور ان کی حکومت نے پاکستان سے متعلق اپنی پالیسی کے باعث ” سرخ لکیر” کراس کرلی ہے۔
اس دوران چین کا ایک رسمی بیان بھی سامنے آیا جس میں دونوں ممالک کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ جنگ کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں تاہم سیکیورٹی ماہرین قندھار پر ہونے والے حملوں سے ایک دو روز قبل پاکستان کے خلاف افغانستان کی جانب سے ہونے والے ڈرون حملوں کے تناظر میں خدشہ ظاہر کررہے تھے کہ پاکستان اس کا بہت سخت جواب دے گا اور اتوار کی شام ہونے والے پاکستانی حملوں سے یہ خدشہ یقین میں بدل گیا ۔ بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے واضح اور جارحانہ پالیسی اختیار کی ہوئی ہے اور فی الحال چین سمیت دیگر دوست ممالک کی مذاکراتی کوششوں کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
(15 مارچ 2026)



