پشاور ( غگ رپورٹ ) سابق صوبائی وزیر اور جماعت اسلامی کے رہنما عنایت اللّٰہ خان نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے افغانستان سے متعلق بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام مختلف مذہبی، لسانی اور سماجی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے حالات ایک دوسرے پر نہ صرف اثر انداز ہوتے رہے ہیں بلکہ دونوں کے درمیان 2500 کلومیٹر کی طویل سرحد پائی جاتی ہے ۔
ایک ویڈیو تبصرے میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بوجوہ کبھی آئیڈیل نہیں رہے ہیں تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ افغانستان یا افغانیوں کو پاکستان کا دشمن قرار دیا جائے ۔ تمام تر خدشات کے باوجود افغانستان کے ساتھ مسلسل سفارتکاری کرکے معاملات کو درست کیا جائے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر اور نارمل تعلقات دونوں کی ضرورت ہے ۔



