بیرسٹر ڈاکٹر عثمان علی
اس وقت پاکستان ایک نہایت پیچیدہ اور متضاد صورتِ حال سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف سفارتی سطح پر مثبت اشارے موصول ہو رہے ہیں، عالمی سطح پر پاکستان کی موجودگی مستحکم ہو رہی ہے، اور معاشی میدان میں بھی کسی حد تک بہتری کی امید بندھی ہے۔ مگر اس بین الاقوامی تاثر کے برعکس، اندرونِ ملک خاص طور پر خیبر پختونخواہ اور بلوچستان جیسے حساس صوبوں میں حالات نہایت نازک ہو چکے ہیں۔ ان خطوں میں بدامنی، تشدد، ریاستی رٹ کا فقدان اور خوف کی عمومی فضا روز کا معمول بن چکی ہے، اور یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان کو اندرونی استحکام کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
بلوچستان کے مسائل اپنی تاریخی، نسلی اور علاقائی پیچیدگیوں میں جڑے ہوئے ہیں، مگر خیبر پختونخواہ کا بحران اپنی نوعیت میں کہیں زیادہ گھمبیر اور تہہ دار ہے۔ یہاں محض خارجی دہشت گردوں کی واپسی یا افغان صورتحال کی بازگشت ہی نہیں، بلکہ اصل خرابی داخلی نظام کی بوسیدگی، قیادت کے فقدان، اور ریاستی مشینری کی نااہلی سے جنم لیتی ہے۔ دہشت گردی کی تازہ لہر، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور ریاستی اداروں پر منظم حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ گورننس مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ ایک جانب دشمن متحرک ہے، تو دوسری جانب ریاست غیر حاضر۔
موجودہ صوبائی حکومت داخلی انتشار، سیاسی نابالغی، اور بدترین گورننس کی علامت بن چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ کے بیشتر اراکین نہ تجربے کے حامل ہیں، نہ سیاسی بصیرت کے، اور نہ ہی عوامی خدمت کا کوئی ویژن رکھتے ہیں۔ ان کے رویے میں سنجیدگی کی بجائے خود پسندی، ہٹ دھرمی اور انا پرستی جھلکتی ہے۔ اپوزیشن کے ساتھ رابطے مفقود ہیں، اور حکومتی مشینری میں ہم آہنگی کا شدید فقدان ہے۔ ایسے ماحول میں نہ کوئی پالیسی بن سکتی ہے، نہ ہی ادارے فعال ہو سکتے ہیں۔
یہ الگ بحث ہے کہ عمران خان کی گرفتاری آئینی تھی یا سیاسی، مگر کوئی بھی جمہوری جماعت اپنے قائد سے وفاداری نبھاتے ہوئے عوامی فلاح اور ریاستی ذمہ داریوں کو پسِ پشت نہیں ڈال سکتی۔ احتجاج اور قانونی چارہ جوئی جمہوری حق ہے، مگر حکومت کا پہیہ روک دینا، ریاستی امور کو مفلوج کرنا، اور عوام کو دہشت گردی، مہنگائی اور خوف کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ناقابل معافی غفلت ہے۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت بدقسمتی سے اسی غفلت کی مرتکب ہوئی ہے۔
اس تمام بحران میں سب سے افسوسناک پہلو نوجوانوں کا رجحان ہے، جو پچھلے چند برسوں میں پالیسی، تدبر اور فکری سیاست سے ہٹ کر صرف سوشل میڈیا کے شور، شخصیت پرستی اور جذباتی نعروں کی طرف مائل ہو چکے ہیں۔ ان کے لیے کارکردگی سے زیادہ بیانیہ اہم ہو چکا ہے، اور دلیل کی جگہ جذبات نے لے لی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قیادت کا انتخاب صلاحیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ نعرے، جوش، اور فالوورز کی تعداد پر ہونے لگا۔ یہی وہ غیر سنجیدہ مزاج ہے جس نے خیبر پختونخواہ کو آج کرپشن، بدنظمی اور بدامنی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
اس خلا کو پر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی شعور کی بیداری کو ادارہ جاتی سطح پر فروغ دیا جائے۔ نوجوانوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ قیادت صرف جلسوں میں نعرے لگانے یا وائرل کلپس بنانے سے نہیں بنتی، بلکہ ایک قائد کو قانون سازی، ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون، عوامی بجٹ کی ترتیب، اور امن و امان کے حساس معاملات میں مہارت ہونی چاہیے۔ ان کی سیاسی تربیت جامعات، اور سماجی اداروں کے ذریعے ہونی چاہیے تاکہ آنے والی نسل صرف تماشائی نہ رہے بلکہ ذمہ دار شہری بنے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنسوں، جرگوں اور علامتی بیانات سے آگے بڑھا جائے۔ خیبر پختونخواہ کی سلامتی اور ترقی کے لیے ایک قومی ایجنڈا ترتیب دیا جائے، جس پر تمام سنجیدہ سیاسی قیادت بغیر کسی جماعتی تعصب کے عمل کرے۔ آفتاب احمد خان شیرپاؤ ایک آزمودہ، مدبر اور بصیرت افروز رہنما ہیں، جو دو بار صوبے کے وزیر اعلیٰ اور وفاقی وزیر داخلہ رہ چکے ہیں۔ ان کا وژن اور تجربہ، خاص طور پر شدت پسندی کے خلاف ان کا مستقل موقف، موجودہ بحران میں رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔
اسی طرح اسفند یار ولی خان اگرچہ بیماری کے باعث عملی سیاست میں فعال نہیں، لیکن ان کی سیاسی وراثت اور فہم و فراست آج بھی مشعل راہ بن سکتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن ایک مذہبی اور سیاسی قوت کے طور پر اس خطے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے بیرسٹر مسعود کوثر اور ہمایوں خان، جماعت اسلامی سے سراج الحق، اور محسن داوڑ، پرویز خٹک جیسے دیگر رہنما بھی اس مشترکہ ایجنڈے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ کی قیادت اس وقت صوبائی سطح پر واضح وژن سے محروم نظر آتی ہے، لیکن ان جماعتوں کی نمائندگی اور شمولیت بھی ضروری ہو گی تاکہ اتفاقِ رائے کی فضا قائم ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت پر بھی لازم ہے کہ وہ نیشنل ایکشن پلان کو مکمل فعال کرے، اس پرعمل درآمد کو صرف بیانات تک محدود نہ رکھے، اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرے۔ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا سے نکال کر اصل قومی بیانیے سے جوڑنا ہوگا، تاکہ وہ صرف ووٹر نہیں، فعال کردار ادا کرنے والے شہری بنیں۔ میڈیا کو بھی اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، اور سنسنی خیزی سے نکل کر پالیسی، مکالمہ اور فکری رہنمائی کی طرف آنا ہوگا۔
اگر خیبر پختونخواہ کی سنجیدہ، تجربہ کار اور قومی مزاج رکھنے والی قیادت ایک میز پر آ گئی، تو یہ محض ایک وقتی حل نہیں بلکہ ایک پائیدار آغاز ہو سکتا ہے۔ وقت بہت کم ہے، چیلنجز بہت بڑے، اور دشمن چوکنا ہے۔ لیکن اگر نیت صاف ہو، وژن واضح ہو، اور ارادہ متحد، تو آج کا بحران کل کا نکتۂ آغاز بھی بن سکتا ہے۔