GHAG

افغانستان سے ٹی ٹی پی کے دو گروپوں میں تصادم اور پاکستانی ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول

پشاور (غگ رپورٹ ) کالعدم ٹی ٹی پی کے دو گروپوں مفتی نور ولی اور حافظ گل بہادر دھڑوں میں اختیارات اور فنڈز وغیرہ کے معاملے پر شدید اختلافات اور افغانستان میں جھڑپوں کی اطلاعات زیر گردش ہیں جبکہ ٹی ٹی پی سمیت بعض دیگر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے دو صوبوں ننگرہار اور خوست میں موجود کالعدم ٹی ٹی پی کے بعض ٹھکانوں کو گزشتہ رات ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے ۔

کالعدم ٹی ٹی پی نے ان ڈرون حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ حملوں میں اہم کمانڈروں سمیت درجنوں شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔

سینئر صحافی عرفان خان کے مطابق اختیارات اور وسائل کی تقسیم کے معاملے پر دونوں گروپوں کے درمیان کافی عرصہ سے شدید نوعیت کے اختلافات چلے آرہے تھے تاہم یہ اختلافات گزشتہ دنوں باقاعدہ تصادم کی شکل اختیار کرگئے اور افغانستان کے تین صوبوں خوست ، پکتیکا اور ننگرہار میں موجود دونوں گروپوں کے مبینہ کیمپوں میں باقاعدہ جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں جن میں درجنوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات زیر گردش ہیں ۔

دوسری جانب کالعدم ٹی ٹی پی سمیت متعدد دیگر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ شب افغانستان میں موجود بعض طالبان کیمپوں اور ٹھکانوں سے ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے ۔ آذاد ذرائع کے مطابق ان حملوں میں پکتیکا کے طرز پر اہم ٹھکانوں اور اسلحہ کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا جبکہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ذرائع نے موقف اختیار کیا ہے کہ بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ کالعدم ٹی ٹی پی نے اس ضمن میں مبینہ طور پر نشانہ بننے والے بعض بچوں کی تصاویر بھی جاری کردی ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts