شیراز پراچہ
اسلام آباد میں سرکاری زمین پر بلا اجازت ایک مسجد کی تعمیر اور پھر عرصے بعد انتظامیہ کی طرف سے اس مسجد کے انہدام نے پاکستان میں موجود مذہبی عناصر کو روایتی دھونس اور اسلام کے نام پر دھمکیوں، بلیک میلنگ اور تشدد کا ڈراوا دینے کا سنہرا موقع فراھم کیا۔ پی ٹی آئی جو احتجاج اور مظاہروں کے ذریعے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے میں بار بار ناکام ہو چکی ہے اسنے بھی مولویوں کے ساتھ ملکر مسجد کے انہدام کے معاملے پر گڑ بڑ پیدا کرنے کے لئے مذھبی کارڈ کا بھر پور اور موقع پرستانہ استعمال کیا۔
سوال ہے یہ کہ کیا مذھب کے یہ نام نہاد ٹھیکیدار مذھب کے نام پر ایسی حرکتیں سعودی عرب میں کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب وہ سر زمین ہے جہاں اسلام کا نزول ہوا، جہاں اللہ کا گھر اور حضور صلی اللہ وسلم کا روزہ مبارک واقع ہیں۔ کیا سعودی مسلمان، عربی جنکی زبان ہے اور جو ھمارے پیارے نبی کے وارث ہیں، وہ اسلام کے نام پر دھونس، دھاندلی سے کام لیتے ہیں، کیا وہ سرکاری زمین پر بلا اجازت مساجد اور مدرسے تعمیر کر سکتے ہیں، کیا وہ اسلام کے نام پر سڑکیں اور راستے بند کرتے ہیں، کیا وہ شاہراؤں کو بند کر کے دکھاوے کی نمازیں پڑھتے ہیں، کیا وہاں کے مولوی حکومت کو دھمکیاں دیتے ہیں، کیا وہاں کے مولوی اور مدارس کے اساتذہ قرآن پڑھنے کے لئے آنے والے معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں مساجد اور مدارس کے اندر کرتے ہیں، کیا وہاں کے مذھبی اساتذہ, مفتی، قاری اور مساجد کے امام بچوں پر تشدد کر سکتے ہیں، کیا اگر وھاں ایسے جرائم ہوں تو وہاں کے علماء بھی پاکستان کے مولویوں اور مذھبی لیڈروں کی طرح خاموش رہیں گے۔
سعودی عرب کو چھوڑیے کیا کوئ دوبئ، ابوظہبی، کویت، بحرین، قطر، مصر، اردن جو تمام کے تمام عرب ممالک ہیں وھاں پر اسلام کے نام پر قانون کو ہاتھ میں لے سکتا ہے، بچوں کے ساتھ مساجد اور مدارس میں سیکس کر سکتا ہے؟ کیا ترکی میں ایسا ہوتا ہے، کیا ملایشیا میں ایسا ہوتا ہے، غرض کہ ایران سے لیکر مراکش تک کسی ملک میں اسلام کے نام پر ایسی غنڈہ گردی اور قانون شکنی نہیں ہوتی جو حرکتیں افغانستان اور پاکستان میں اسلام کے نام پر کی جاتی ہیں۔میرے نزدیک اس معاملے میں پاکستان افغانستان سے بھی بدتر ہے۔
پاکستان میں اسلام کے نام پر جو کچھ یہاں کا مذھبی طبقہ کرتا ہے وہ اور کچھ تو ہو سکتا ہے اسلامی ہرگز، ہرگز نہیں ہے۔ھمارے مذھبی طبقے کے اس رویے کی بڑی وجہ انکی دین کی ناقص سمجھ ہے۔ پاکستانی مولویوں کی دینی سوجھ بوجھ اموی اور عباسی ادوار کے مولو یوں کے فرقہ وارانہ اور سیاسی اختلافات پر مبنی ہے۔ پھر انیسویں صدی کے دوران اور بیسویں صدی کے اوائل میں انگریز نے ہندوستان کے مسلمانوں میں فرقہ وارانہ تقسیم کو ہوا دی۔ ہندوستان میں شعیہ اور سنی میں تفریق اس وقت مزید بڑھی جب لکھنؤ کے اردو بولنے والے نوابوں نے ایک ہندوستانی شعیہ اسلام ایجاد کیا اور واقعہ کربلا کے حوالے سے فرضی کہانیاں اور مبالغے پر مبنی دردناک داستانیں گھڑ یں جن میں وقت گزرنے کے ساتھ مبالغہ بڑھتا رہا۔ اسی طرح ہندوستان میں ایجاد ہونے والے بریلوی مسلک نے بھی فرقے کی شکل اختیار کر لی جس میں اسلام میں ہندوستان کی مقامی ہندو ثقافت اور تواھم پرستی کا رنگ در آ یا۔ اسی طرح دیو بندی مسلک بھی بیرونی اثرات سے متاثر تھا مگر یہاں بھی ہندوستانی ثقافت جھلک ائ۔ اہل حدیث، تبلیغی جماعت، جماعت اسلامی سب ہندوستان میں وجود میں آئے۔ یہاں تک کہ احمدی یا قادیانی مذھب بھی ہندوستان میں وجود میں آیا۔ ان تمام نے اسلام کو ہندوستانی شکل دی اور یہ اسلام باقی دنیا سے مختلف تھا۔ پیر پرستی، اندھی تقلید، منافرت، جہالت، منافقت، توہم پرستی، ریاکاری، بدعات اور باھمی جھگڑے ہندوستانی اسلام کی خصوصیات تھیں۔
انگریز کے جانے کے بعد پاکستان امریکہ کے دائرہ اثر میں آیا جس نے سن 80 کی دھائی میں زمین زرخیز دیکھ کر یہاں جہادی اسلام کی بنیاد رکھی۔
درجہ بالا تمام عوامل اور تجربات کے نتیجے میں پاکستان میں اسلام زندگی اور کائنات کے راز سمجھنے اور دریافت کرنے یا برداشت، سلامتی، امن، محبت اور عدل کی علامت اور مظاہرے کی بجائے عدم برداشت, مکالمے کی جگہ گالم گلوچ، تشدد، قتل و غارتگری اور دھشت گردی کا مظہر بن گیا ہے۔ پاکستان کے مذھبی لیڈروں، مذھبی جماعتوں، علماء، مولوی حضرات اور مدارس کے طلبہ کے کو اس بات پر شدید پریشانی ہونی چاہیے کہ لوگ ان سے خوف کھاتے اور ان کے شر سے ڈرتے ہیں۔
ھم جس مقام پر کھڑے ہیں وھاں ھمیں پہنچانے والے پاکستان کے جر نیل ہیں جنھوں نے مذھبی انتہا پسندی، فرقہ پرستی اور جہادی اسلام کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا اور مزھب کے حوالے سے عوام کی جہالت، جزباتییت اور احساس تقدس اور خوف کا فایدہ اٹھا کر نت نئے مذھبی پراجکٹ شروع کیے۔ جماعت اسلامی کی سرپرستی ہو، یا سپاہ صحابہ, اہل حدیث یا تبلیغی جماعت کی یا طارق جمیل، خادم حسین رضوی، اوریا مقبول جان، خلیفہ ھارون رشید جیسے کردار ہوں سب کی تخلیق اور پروموشن اب پارہ کی فیکٹری نے کی۔ اس فیکٹری کا آخر ی شہکار عمران خان تھا جس نے مغر بیت اور ماڈرنیٹی کو مذھبی اور حب الوطنی کے ٹچ دیے۔
آج ھم وہی کاٹ رہے ہیں جو برسوں بوتے رہے ہیں۔ انتہا پسندی اور مذھبی جنونیت کو آسانی سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام جیسے خوبصورت اور سلامتی کے دین کو جہالت کے کینسر سے نجات دلانے کےلئے خلوص نیت، مصمم ارادے، حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ بغیر تیاری اور عوام کو آگاہی و تربیت دیئے بغیر مساجد گرانے سے مسائل، غلط فہمیاں اور تشدد بڑھے گا۔ پہلے مرحلے پر اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل نو ہونی چاہیے۔ اس کونسل میں دنیا بھر سے جید سکالرز اور مسلمان سائنسدانوں کو شامل کیا جائے جن کا تعلق مختلف ممالک سے ہو۔
پاکستانی علماء اور ماہرین بھی اس میں شامل ہوں۔ اسلامی نظریاتی کونسل میں تمام جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ بھی ہوں۔ یہ نئی کونسل ایسے قوانین کے مسودے مرتب کرے جنکے نتیجے میں پاکستان میں اسلام کو جنو نیت، انتہا پسندی، توہم پرستی سے نجات دلائی جائے اور مذھب کے سیاسی اور کاروباری استمعال کو ختم کیا جائے۔ ایسے قوانین لانے کی ضرورت ہے جنکے تحت بغیر اجازت کوئی مسجد اور مدرسہ تعمیر نہ کیا جا سکے۔ تمام مدارس کی رجسٹریشن کا تفصیلی طریقہ کار ہو۔ مدرسوں میں پڑھائے جانے والے نصاب پر مکمل نظر ثانی کی جائے اور مساجد کو جاءے امان بنایا جا سکے اور مذھبی اقلیتوں کو نہ صرف تحفظ حاصل ہو بلکہ پاکستان میں مزھب کے نام پر استحصال اور تشدد کو ھمیشہ ھمیشہ کے لئے ختم کرنے کی راہ ہموار ہو۔
2025 پیر 11 اگست