GHAG

افسوسناک صورتحال

افسوسناک صورتحال

یہ بات کافی تشویش ناک ہے کہ پاکستان کے مختلف اسٹیک ہولڈرز دہشت گردی اور بدامنی کے سنگین چیلنجز پر نتائج کا ادراک کیے بغیر پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف عمل نظر آتے ہیں اور اس رویے کی قیمت عوام کو اپنے خون کی شکل میں دینی پڑتی ہے ۔ ناین الیون کے بعد پاکستان کے دو صوبے خیبرپختونخوا اور بلوچستان جہاں ایک طرف دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کی ہزاروں کارروائیوں کی لپیٹ میں آگئے وہاں عالمی ، علاقائی اور مقامی پراکسیز کو بھی مواقع ملتے گئے اور اسی کا ردعمل ہے کہ بے شمار کوششوں کے باوجود یہ صوبے دو دہائیاں گزرنے کے باوجود بدامنی سے دوچار ہیں ۔ روزانہ کی بنیاد پر کہیں نہ کہیں کوئی واقعہ ہوتا دکھائی دیتا ہے اپر سے رہی سہی کسر قومی بیانیہ کے فقدان اور بیڈ گورننس جیسے عوامل پوری کرتے ہیں ۔ اس ضمن میں حال ہی میں پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے اس الزام کی مثال دی جاسکتی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حساس ادارے خیبرپختونخوا میں ” گڈ طالبان” کو سپورٹ کررہے ہیں۔ اگر چہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان کے اس الزام کا بروقت جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پر ڈیرہ اسماعیل خان میں طالبان کو ” بھتہ” کا الزام لگایا تاہم اس کے فالواپ میں وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کا وہ بیان کافی مضحکہ خیز لگا جس میں انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کو یہ الزام نہیں لگانا چاہیے تھا ۔ وزیر اعلیٰ ، وزیر داخلہ اور وفاقی مشیر پر مشتمل ان تین اہم عہدے داروں کے متضاد بیانات سے یہ اندازہ باآسانی لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے ارباب اختیار دہشت گردی کے سنگین چیلنج کو کتنا سیریس لیتے ہیں اور ان کی سنجیدگی کا عالم کیا ہے؟

گزشتہ روز ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں ایک مشتعل ہجوم نے احتجاج کی آڑ نے فورسز کے کیمپ پر حملے کی کوشش کی تو حسب معمول ان کو ایسا کرنے سے منع کیا گیا جس کے ردعمل میں ایک افسوسناک واقعہ وقوع پذیر ہوا جس کے نتیجے میں 5 افراد شہید اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے ۔ حکام نے موقف اختیار کیا کہ جاں بحق ہونے والے افراد قریبی پہاڑوں پر پہلے سے موجود ایک دہشت گرد گروپ کی فائرنگ کا نشانہ بنے ہیں جس نے اس کشیدگی سے فایدہ اٹھانے کی کوشش کی تاکہ فورسز اورعوام کے درمیان فاصلوں اور تلخیوں کا راستہ ہموار کیا جائے ۔ تاہم دوسری جانب مکمل تفصیلات معلوم کیے بغیر حکمران جماعت پی ٹی آئی اور بعض دیگر گروپوں نے فورسز کے خلاف زبردست قسم کی پروپیگنڈا مہم شروع کردی جس کے باعث بہت پیچیدہ صورتحال جنم لینے لگی اور مختلف سیاسی حلقوں نے اس افسوسناک واقعے پر حسب معمول پولیس پوائنٹ اسکورنگ کا سلسلہ شروع کردیا ۔ اسی دوران مقامی عمائدین اور سول ، عسکری حکام کے درمیان ایک جرگہ منعقد کیا گیا جس میں صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کیا گیا اور طے پایا گیا کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جائے گا مگر اس مفاہمتی سلسلے کو بھی ڈیل کہہ کر مشکوک بنانے کی مہم چلائی گئی ۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اعلان کیا کہ اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے عمائدین ، متاثرین اور حکام کے ساتھ اگلے روز ایک مشاورتی سیشن رکھا جائے گا ۔ انہوں نے شہداء اور زخمیوں کے لیے ایک امدادی پیکج کا بھی اعلان کیا تاہم جس وقت وہ یہ سب کچھ کر رہے تھے ان کے بعض وزراء سوشل میڈیا پر پاکستان کی سیکورٹی فورسز پر شدید نوعیت کے الزامات لگانے میں مصروف تھے اور بعض ممبران اسمبلی ، سینٹ احتجاجی مظاہروں سے خطاب بھی کرتے دکھائی دیے ۔

اس بات سے قطع نظر کہ مذکورہ واقعے کی انکوائری ہونی چاہیے تلخ حقیقت یہ ہے کہ صوبے کی حکمران جماعت نے اس واقعے کو پاکستان کی سیکورٹی فورسز کے خلاف ایک نفرت انگیز مہم جوئی میں تبدیل کرکے رکھ دیا اور بیرون ملک مقیم اس پارٹی کے یوٹیورز اور لیڈروں نے نامکمل معلومات کی بنیاد پر تبصرے کرتے ہوئے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی واقعتاً یہ سمجھتی ہیں کہ وفاقی حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کی ذمہ دار ہیں تو پی ٹی آئی بطور احتجاج حکومت سے دستبردار کیوں نہیں ہوتی ؟ کیونکہ عوام کو تحفظ فراہم کرنا سیاسی ، اخلاقی اور انتظامی طور پر صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے اور بلیم گیم سے حالات کے مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے ۔

دوسرا آپشن یہ ہے اگر صوبائی حکومت اس مسئلے کو حل کرنے اور صورتحال پر قابو پانے میں سنجیدہ ہے تو وہ سب سے بااختیار فورم ” اپیکس کمیٹی” کا اجلاس کیوں طلب نہیں کرتی ؟ وقت کا تقاضا ہے کہ صوبے کو مزید انتشار ، کشیدگی اور بدامنی سے بچانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں اور کوشش کی جائے کہ پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ اور منفی یا یکطرفہ پروپیگنڈے پر مشتمل رویوں سے گریز کیا جائے ۔

(جولائی 28، 2025)

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts