ضیاء الحق سرحدی
گزشتہ روزپاکستان اور ایران کے مابین 12 معاہدوں اور مفاہمت کی یاد داشتوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان وزارتی سطح کے مذاکرات میں ایران کے سلک روڈ اور گوادر و چاہ بہار کے منصوبوں میں اشتراک، کوئٹہ زاہدان ریلوے ٹریک اور تجارتی امور سمیت زمینی رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فری ٹریڈ معاہدہ تیار ہے۔ ایران کو اکتوبر میں وزارتی اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی گئی۔ مذاکرات میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور ایران کا موقف ایک ہے، کسی قسم کی دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا ۔پاکستان اور ایران کی دو طرفہ تجارت سالانہ آٹھ سے دس ارب ڈالرز تک بڑھانے پر اتفاق خوش آئند ہے لیکن عملی طور پر امریکی پابندیاں اور یک طرفہ تجارت اس ہدف کے حصول کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں، جس کی وجہ سے ایران کے لیے پاکستانی برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ 2019سے 2024تک پانچ سال کے دوران ایران کے لیے مجموعی پاکستانی برآمدات محض ایک لاکھ تیس ہزار ڈالرز رہیں ، جبکہ صرف گذشتہ ایک سال میں ایران سے پاکستانی در آمدات ایک ارب بائیس کروڑ ڈالرز سے زائد رہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ملک سرحدی تجارت میں اضافے کا میکانزم بنائیں، جس میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کی جائے۔ جب تک یک طرفہ تجارت ہوتی رہے گی تجارتی حجم میں اضافہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔ دوسری جانب چابہار اور گوادر کا اشتراک دونوں ملکوں کی معیشت اور دفاع کے لئے بھی اہم پیش رفت ثابت ہوگی کیونکہ یہ چابہار منصوبہ ہی تھا جس کی آڑ میں بھارتی ایجنٹوں نے اسرائیل کے لئے جاسوسی کا نیٹ ورک قائم کیا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایران اسرائیل جنگ کے بعد دونوں ملک خصوصاً ایران دوست دشمن کی حقیقی شناخت کو مستقبل کی پالیسیوں کے لئے استعمال کریں گا ، اسی میں دونوں ملکوں کی معیشت اور دفاع کا استحکام مضمر ہے۔
اسی تناظر میں دونوں ملکوں کے درمیان دور رس اہمیت کے ایک در جن معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں جن پر عملدرآمد سے باہمی تعاون، اخوت اور دوستی کے لازوال رشتے مزید مضبوط ہو جائیں گے۔ ان معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے تحت ایران کے شاہراہ ریشم اور گوادر تا چاہ بہار منصوبوں میں اشتراک، کوئٹہ زاہدان ریلوے ٹریک اور تجارتی معاملات سمیت زمینی رابطے بڑھانے ، آزادانہ ٹریڈ اور دو طرفہ تجارت کے موجودہ 3 ارب ڈالر کے حجم کو جلد از جلد 10ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچانے کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزارتی مذاکرات کے ساتھ صدر پزشکیان نے وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف زرداری سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں اور علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ کیا۔ صدر زرداری نے اس موقع پر یقین ظاہر کیا کہ خطے کے پر امن اور خوشحال مستقبل کے لئے ، پاکستان اور ایران مل جل کر کام جاری رکھیں گے ۔
وزیر اعظم شہباز شریف سے ایرانی صدر کی ملاقات کے دوران آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سینئر وفاقی وزرا بھی موجود تھے۔ ایرانی صدر نے مسلم امہ کے اتحاد پر زور دیا اور حالیہ اسرائیلی حملے کے دوران پاکستان کی حمایت اور یکجہتی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان کو اپنا ہمسایہ ہی نہیں، بھائی سمجھتا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو ایران کے دورے کی دعوت بھی دی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ کے اقدامات پر تبادلہ خیال ہوا جن میں بارٹر ٹریڈ کی سہولت، چاول، پھلوں اور گوشت کی برآمد کے کوٹے میں اضافہ، سرحدی بازاروں کو فعال کرنے اور تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجاویز بھی شامل تھیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے معاہدوں پر دستخطوں کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران کو پر امن مقاصد کے لئے جوہری توانائی کے حصول کا پورا حق ہے۔ یہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی طرف اشارہ تھا جس کا مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا بیان کیا گیا تھا جبکہ ایران کا واضح موقف ہے کہ وہ پرامن مقاصد کے لئے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام سے دستبردار نہیں ہوگا، انہوں نے اسرائیلی حملوں کیخلاف ایران کی حکومت اور عوام کی جانب سے اپنی خود مختاری اور سا لمیت کے بھر پور دفاع کو خراج تحسین پیش کیا۔ پاک ایران سرحدوں پر دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم ایسی کارروائیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ اور خطے میں امن و ترقی کی خاطر کئی سوکلومیٹر طویل سرحدوں کو کھولنے کے لئے دہشت گردوں کے خلاف بھر پور تعاون کو یقینی بنائیں گے۔ ہم پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔
پاکستان اور ایران میں تعاون کے جو معاہدے ہوئے ہیں ان کے نتیجے میں دونوں ملکوں میں تجارتی رابطوں میں اضافہ ہوگا۔ خاص طور پر بارٹر سسٹم پر سرحدی بازاروں کے ذریعے بلوچستان کی تاجر برادری کو فائدہ ہوگا جو اس نظام پر زیادہ انحصار کرتی ہے۔ ایرانی صدر کا پاکستان کا دورہ موجودہ عالمی صورتحال میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ایران اور پاکستان دونوں حال ہی میں بیرونی جارحیت کا نشانہ بنے ہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ صدر پزشکیان کے د ورے سے دونوں ملکوں میں مفاہمت مزید بڑھے گی۔ایران پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور دونوں ملک اسلامی بھائی چارے کے مضبوط رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، اس وقت عالمی سطح پر رونما ء ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں ضروری ہو گیا ہے کہ علاقے کے ممالک باہمی تعلقات کو مضبوط و مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ معاشی تعاون کو فروغ دیں پاکستان اور ایران کے درمیان پہلے بھی تجارتی روابط موجود رہے ہیں لیکن انہیں کسی بھی طور پر تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے تجارت سے نہ صرف دونوں ملکوں میں معاشی و اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ یہ ایک دوسرے کے مزید قریب آئیں گے ۔
کسی بھی ملک کی معاشی و اقتصادی ترقی میں تجارت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے تجارت کو فروغ دے کر قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔