صوبہ خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں عام کرفیو ختم کردیا گیا تاہم مخصوص علاقوں میں کرفیو بدستور نافذ ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکام نے بتایا ہے کہ باجوڑ میں خار منڈا روڈ، ناواگی، عنایت کلی اور خار صادق آباد سمیت دیگر علاقوں سے کرفیو اٹھا لیا گیا ہے، جس کے بعد معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوگئے ہیں، تمام بازار اور تجارتی مراکز کھل گئے ہیں۔ادھر ماموند کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری ہیں۔
دوسری جانب خیبر پختون خوا کابینہ نے ضلع باجوڑ کے متاثرین کے لیے امدادی پیکیج کی منظوری دے دی۔صوبائی حکومت کے مطابق متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے فی خاندان کو 50، 50 ہزار روپے دیے جائیں گے جبکہ ٹارگٹڈ کارروائی مکمل ہونے کے بعد متاثرہ ہر خاندان کو مزید 25، 25 ہزار روپے دیے جائیں گے۔
ادھر ضلع باجوڑ میں عارضی طور پر بے گھر شہریوں کی تازہ صورتحال سے متعلق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر باجوڑ سعید اللہ جان نے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ جس کے مطابق سرکاری و نجی سکولوں اور کالجز میں مجموعی طور پر 9 ہزار 132 افراد مقیم ہیں، جن میں 1976 مرد، 2015 خواتین اور 5141 بچے شامل ہیں، جبکہ سکولوں اور کالجز کی کل تعداد 116 ہے۔اس کے علاوہ سپورٹس سٹیڈیم کیمپ میں 434 خاندان آباد ہیں، جہاں 2497 افراد موجود ہیں۔
مزید برآں، تقریباً 20 ہزار خاندان اپنے رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہو گئے ہیں، جن کی رجسٹریشن اور ڈیٹا مرتب کرنے کا عمل جاری ہے۔
آج صبح ڈپٹی کمشنر باجوڑ شاہد علی خان کی ہدایت پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر نے باجوڑ سپورٹس کمپلیکس میں مقیم آئی ڈی پیز کے لیے ناشتہ تقسیم کیا۔
اے اے سی نے خود تقسیم کے عمل کی نگرانی کی اور تمام ٹینٹس تک ناشتہ کی بروقت ترسیل کو یقینی بنایا تاکہ متاثرین کی ضروریات فوری طور پر پوری کی جا سکیں اور ان کی روزمرہ کی سہولیات کا خاص خیال رکھا جا سکے۔