GHAG

نئے صوبوں کے قیام اور این ایف سی ایوارڈ کی بحث

نئے صوبوں کے قیام اور این ایف سی ایوارڈ کی بحث

عقیل یوسفزئی

سیاسی ، حکومتی اور صحافتی حلقوں میں دو اہم ایشوز پر بہت سنجیدہ بحث جاری ہے ۔ ایک تو یہ کہ پاکستان کی آبادی اور جغرافیہ کے تناظر میں صوبوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے اور دوسرا یہ کہ صدر مملکت نے 11 ویں این ایف سی ایوارڈ کے لیے جو کمیشن تشکیل دیا ہے اس سے کس قسم کے مجوزہ فیصلوں کی توقع کی جاسکتی ہے کیونکہ دونوں ایشوز کا تعلق وفاق اور صوبوں کے تعلقات کار اور اختیارات کی تقسیم سے ہے اور اسی پس منظر میں مختلف نوعیت کی تجاویز اور خدشات سامنے آرہے ہیں ۔

ممتاز تجزیہ کار اور سابق ہوم سیکرٹری ڈاکٹر اختر علی شاہ کے مطابق یہ بات قابل افسوس ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے اجراء کا اعلان تقریباً 16 برسوں کے تعطل کے بعد کیا گیا ہے جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے کیونکہ یہ صوبوں اور وفاق کے درمیان نہ صرف یہ کہ وسائل اور اختیارات کی تقسیم اور تعین کے لئے ایک درکار آئینی تقاضا ہے بلکہ اس کو ریاست اور عوام کے درمیان ایک سماجی معاہدے ( سوشل کنٹریکٹ) کی حیثیت بھی حاصل ہے ۔ اس ضمن میں انہوں نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف سیاسی اور سماجی حلقے اس بات پر سخت معترض ہیں کہ مذکورہ کمیشن کے لیے صوبے کی نمائندگی دو ایسے آفراد کو سونپی گئی ہے جن کا تعلق اس صوبے ہی سے نہیں ہے ۔

ہمیں ان کی قابلیت پر شک نہیں مگر اس اقدام سے یہ تاثر لیا جارہا ہے کہ شاید خیبرپختونخوا میں ان امور پر دسترس رکھنے والے مقامی ماہرین یا حکومتی عہدیدار ہی نہیں ہیں جو کہ صوبے کا مقدمہ لڑ سکتے ہیں ۔

سینئر صحافی احمد منصور کے بقول پاکستان اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ری انگیجمنٹ کی ایک پراسیس سے گزر رہا ہے اور ان دونوں ایشوز کو اندرونی استحکام اور سیکورٹی معاملات کے تناظر میں بہت اہمیت حاصل ہے ۔ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی ریاست نے خطے اور عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت حاصل کی ہے اگر ایک جانب عالمی طاقتوں کی حمایت سے پاکستان دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں اور خطے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے جارہا ہے تو دوسری جانب وفاق اور تمام وفاقی اکائیوں کے درمیان مساوات اور برابری کی بنیاد پر تعلقات کار کے از سر نو تعین پر بھی مشاورت جاری ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جاری سیکیورٹی اقدامات کے علاوہ پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کے فیصلے کو بھی اسی تسلسل میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور یہ تمام اقدامات ناگزیر ہوگئے ہیں ۔

دوسری جانب سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے ایک تبصرے میں کہا ہے کہ پاکستان کے بعض صوبے آبادی یا رقبے کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں جس کے باعث نہ صرف انتظامی مسائل بڑھتے گئے بلکہ وسائل کے منصفانہ استعمال کو بھی ممکن نہیں بنایا جاسکا ۔ یہی وجہ ہے کہ 90 کی دہائی کے بعد مختلف اوقات میں نئے صوبوں کے قیام یا تشکیل کی بحث وقتاً فوقتاً سر اٹھاتی رہی ۔ اس کے علاؤہ ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کے پس منظر میں وفاقی حکومت کے مالی وسائل میں اضافے کی بحث بھی پھر سے چل نکلی ہے اس لیے این ایف سی ایوارڈ اور صوبوں کی تقسیم کے معاملے کو سنجیدہ حلقے اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں ۔

(اگست 26، 2025)

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts