GHAG

سکولز اور کالجز کے بعد خیبرپختونخوا حکومت کا سرکاری ہسپتالز نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت نے عام عوام کی سہولت کے لئے قائم سرکاری اسکولوں کو پرائیویٹائز کیا، پھر کالجز کی نجکاری کا فیصلہ کیا اور اب سرکاری ہسپتالوں کو بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ محکمہ صحت کے نوٹیفکیشن کے مطابق 58 سرکاری ہسپتال مرحلہ وار نجی کمپنیوں کے سپرد کیے جائیں گے۔صحت کے شعبے کی بدحالی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بیشتر اسپتال جدید مشینری، ادویات اور تربیت یافتہ سٹاف کی شدید کمی کا شکار ہیں۔

ایسے حالات میں نجکاری کا فیصلہ عام آدمی کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دے گا اور غریب عوام کے لیے علاج مزید مہنگا اور ناقابلِ رسائی ہو جائے گا۔ اس سے پہلے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے کے 1500 سرکاری سکول نجی شعبے کے حوالے کیے جا چکے ہیں اور مزید 55 کالجز بھی پرائیویٹ اداروں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

کوہستان کرپشن اسکینڈل اور سونے کے ذخائر میں ہیرا پھیری جیسے کیسز پہلے ہی عوام کے اعتماد کو ہلا چکے ہیں۔ اب نجکاری کے اس سلسلے میں سکولوں کو پرائیویٹائز کرنے کے بعد، بھرتیوں میں کرپشن اور پھر کالجز و اسپتالوں کو عوامی دسترس سے نکالنے کا عمل ایک “منظم لوٹ مار پروگرام” کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کی طویل حکمرانی کے باوجود تعلیم اور صحت کے شعبوں کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ عوامی فلاح اور ترقی کے بجائے صرف نعروں، وعدوں اور اقرباء پروری پر انحصار کیا گیا، جس کا خمیازہ آج صوبے کے غریب عوام بھگت رہے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts