GHAG

نئے صوبوں کے قیام پر سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کا تبصرہ

پشاور ( غگ رپورٹ ) ممتاز تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کو درپیش چیلنجز کے باعث مقتدرہ کی کوشش ہے کہ اقتصادی طور پر صوبوں کے مقابلے میں وفاقی حکومت کے اختیارات اور فنڈز زیادہ ہو اور نئے صوبوں کے قیام کی تجویز اور نئے این ایف سی ایوارڈ کے متوقع فیصلوں کو اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے ۔

اپنے تجزیہ میں انہوں نے کہا ہے کہ آزادی کے فوراً بعد پیش کئے گئے وفاقی بجٹ میں افواج پاکستان کے لیے 70 فی صد بجٹ رکھا گیا کیونکہ پاکستان اپنے حریف بھارت کے مقابلے میں دفاعی طور پر کمزور تھا اور ابتداء ہی سے اس کو جاری کشیدگی کے پس منظر میں نیشنل سیکیورٹی اسٹیٹ کے فارمولے پر چلانے کی پالیسی اختیار کی گئی ۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کی حالیہ کشیدگی نے مقتدرہ کو پھر سے بعض اہم اقتصادی اقدامات پر مجبور کردیا ہے ۔ نئے صوبوں کی حالیہ بحث 90 کی دھائی سے چلی آرہی ہے اور اس کی ضرورت بھی ہے کیونکہ قومی اور صوبائی سطح کی پارٹیز اور لیڈر شپ نے کھبی لوکل گورنمنٹ کی فعالیت اور اہمیت کو تسلیم نہیں کیا جس کے باعث وسائل کی تقسیم کے مسائل پیدا ہوتے گئے ، صوبے مضبوط ہوئے مگر وفاق اور لوکل گورنمنٹ کے ادارے کمزور ہوئے جس کے باعث نہ صرف پسماندگی میں اضافہ ہوا بلکہ انتظامی مسائل بھی بڑھتے گئے اسی سے نمٹنے کے لیے اب کوشش کی جارہی ہے کہ صوبوں کی تعداد بڑھاکر سیاسی جماعتوں اور چند شہروں کی منافلی کو کم کیا جائے ۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار اور اقتصادی ڈھانچے کی مضبوطی کے آپشنز پر بھی کام کیا جارہا ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts