GHAG

آہ اکبر مروت۔۔۔ ’جن کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے‘

(برمنگھم سے ناصر علی سیّد) دبستان پشاور سے جڑے ہوئے اردو اور پشتو زبان کے طرح دار شاعر اور ریٹائرڈ ڈی ایس پی
اکبر مروت ایڈوکیٹ بھی چل بسے مجھے حلقہ ارباب ذوق کے میڈیا کوارڈینٹر محمد طارق ختک نے جب اکبر مروت کے بچھڑنے کی افسوسناک اطلاع کا میسیج کیا تو مجھے دیر تک یقین نہیں آیا۔، لکی مروت سے تعلق رکھنے والے اکبر مروت میرے دل کے بہت قریب دوست اور پشاور کے ادبی حلقوں کی ایک معروف اور پسندیدہ شخصیت تھے، کچھ ہی عرصہ پہلے نوشہرہ شفٹ ہونے سے پہلے وہ باقاعدگی کے ساتھ حلقہ ارباب ذوق پشاور اور بزم بہار ادب کے اجلاسوں میں بہت ہی محبت سے شرکت کرتے رہے پشاور کے قلم قبیلہ سے ان کی محبت اور سینئر دوستوں سے ان کی عقیدت کا عالم یہ تھا کہ بہت ہی مختصر وقفے سے انہوں نے بارہا احباب کو اپنے گھر ضیافت پر بلایا ان کی رہائش پولیس کالونی پشاور میں تھی اور کچھ اضباب کے لئے اتنی دور جانا ممکن نہیں تھا تو پھر انھوں نے جی ٹی روڈ پر ایک دوست کے حجرے میں احباب کے لئے خصوصی دعوتوں کا سلسلہ جاری رکھا تھا،

اکثر کہا کرتے تھے کہ دوستوں کے کام آنے سے بڑھ کر شاید ہی کوئی اور خوشی ہو گی، مجھے یاد ہے کہ معروف شاعر افضل خان ایک کام سے پشاور آرہے تھے انہوں نے مجھے کہا کہ اگر کوئی دوست میری مدد کر سکے تو سہولت ہو جائے گی میں نے کہا کہ ”اکبر مروت ہے نا“ پو چھا کون ہے میں نے کہا شاعر ہے اور ایک ریٹائرڈ پولیس آفیسر مگر اب ایڈوکیٹ ہے،اس کے بہت سے شاگرد ہیں کسی کی ڈیوٹی لگا لے گے آپ آ جائیں میں نے اکبر مروت سے کہا کہ افضل خان ایک کام سے پشاور آرہا ہے اور چونکہ اس واپس جانا ہے اس لئے اگر کسی کو کہہ دیں کہ ان کے ساتھ چلا جائے کہنے کیا مطلب؟ کسی کو کیوں؟

آپ نے کہہ دیا تو اب آپ بے فکر ہو جائیں یہ سردیوں کے دن تھے مگر سو کام چھوڑ کے صبح سویرے اس محکمہ میں پہنچ کر مجھے فون کیا کہ میں پہنچ گیا ہوں افضل خان کو میرا نمبر دے دیں میں نے کہا کسی کو کہہ دیتے کہنے لگے کہ افضل خان آپ کا مہمان ہے اس کے کام میں کوئی کوتاہی ہو جاتے تو مجھے بہت تکلیف ہوتی، پھر پورا دن افضل خان کے ساتھ گزارا، اسی طرح جب جب بھی مجھے یا بچوں کو ائیر پورٹ جانا ہوتا تو وہاں موجود اپنے دوستوں اور کو لیگ کو کہہ دیتے اور یو ں ہماری گاڑیا ں بھی پارکنگ کی بجائے ائیر پورٹ کے اندر جاتیں اور ہمیں وی آی پی ٹریمنٹ ملتی۔اس لئے جب بھی ہم ائیر پورٹ پہنچتے اسرار احمد اور بن یامین کو ہمیشہ اپنا منتظر پاتے اپنے ہونٹوں پر ہمیشہ ایک محبت بھر ی مسکراہٹ سجائے ہوئے اکبر مروت کے دل میں اپنے ادبی دوستوں کے لئے بہت محبت تھی اس لئے شاید ہی کوئی دوست ایسا ہو جس کے لئے انہوں نے اشعار نہ کہیں ہوں، مجھ سے ان کی محبت دیدنی تھی اور جب سے سوشل میڈیا کا چلن عام ہوا ہے نہ جانے کتنے ہی اشعار میرے نام کر کے پوسٹ کرتے رہے ہیں،

اسی طرح جب بھی گھر آتے خوب لدے پھندے آتے۔ان کے لئے بھی اگر ان کے علاقے سے کوئی سوغات لاتا تو اس میں میرا حصہ ضرور ہو تا، مجھ سے انہیں کئی شکایتیں تھی کہا کرتے تھے سر جی ہر تقریب میں جانا بالکل بھی ضروری نہیں ہو تا، آپ آرام کیوں نہیں کرتے، واک کب سے نہیں کیاپھر بہت سی دعائیں پڑھ کر مجھ پر پھونکا کرتے، مسلسل رابطہ میں رہتے تھے مگر پچھلے کچھ ہفتوں سے ان کی کوئی پوسٹ یا میسج نہیں ملا میں نے رابطہ کیا تو اپنی بیماری کے بارے میں بتایا مگر بہت ہی سرسری سے بات کی پھر نوشہرہ شفٹ ہونے کی وجوہات بھی شئیر کیں وہ اپنے بچوں کی کامیابیوں پر بہت خوش تھے، جنید اکبر مروت کی بطور اسسٹنٹ کمیشنر تعنیاتی پر بطور خاص فون کر کے دعا کے لئے کہا تھا۔ جنید اکبر ہمیشہ اپنے والد (باجان) اکبر مروت کو اپنا ہیرو قرار دیتے تھے اور کل جنید اکبر نے اپنی فیس بک وال پر ان کی رحلت کی خبر دیتے ہوئے بہت دکھ سے لکھا۔

’’جن کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے“۔ اکبر مروت جب سے نوشہرہ گئے تھے خود کو اکیلا محسوس کرنے لگے تھے پشاور کے دوستوں کو بہت مس کرتے تھے۔ انھوں نے جو آخر آخر میں سوشل میڈیا پر اپنا شعر پوسٹ کیا اب ان کے بچھڑنے نے اس کے معنی سمجھائے۔

میکدہ بھی تو ہو گیا خالی
آ کہیں اور جائیں تنہائی

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts