اے وسیم خٹک
فیس بک پر سکرول کرتے ہوئے صحافی لحاظ علی کی پوسٹ نظر آئی، جس میں انہوں نے لکھا کہ مارچ 2024 سے نومبر 2024 تک پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی کے لیے نو ماہ میں پانچ بار اسلام آباد کی طرف مارچ کیا۔ لیکن 26 نومبر 2024 کے واقعے کے بعد پارٹی نے نہ کوئی بڑا احتجاج کیا اور نہ ہی ایسی دھمکی دی۔ اس پوسٹ نے سوچنے پر مجبور کیا کہ پی ٹی آئی کا وہ جوش کیوں غائب ہو گیا؟ آج، جب عمران خان کو جیل میں دو سال مکمل ہونے والے ہیں، کارکنوں کا جذبہ ماند پڑتا دکھائی دیتا ہے۔ صرف پشاور کے علاقے باڑہ سے سہیل افریدی اور مینا خان کی طرف سے احتجاج کی کال تو آئی ہے، لیکن باقی رہنما خاموش ہیں، اور وہ پرانا والا جوش کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
مارچ 2024 سے پی ٹی آئی نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا۔ پہلے یہ چھوٹے پیمانے پر تھے، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں، جہاں کارکن عمران خان کی گرفتاری کے خلاف نعرے لگاتے۔ جون میں ایک بڑا مارچ اسلام آباد کی طرف گیا، جس کی قیادت علی امین گنڈاپور نے کی، لیکن کنٹینرز اور پولیس نے اسے روک دیا۔ اگست میں 26ویں آئینی ترمیم کی تنسیخ کا مطالبہ زور پکڑ گیا، جس میں بشریٰ بی بی اور بیرسٹر گوہر شامل تھے، لیکن مذاکرات ناکام رہے۔ اکتوبر میں ایک اور مارچ کے دوران پولیس سے جھڑپیں ہوئیں، آنسو گیس چلی۔
نومبر 2024 کا احتجاج سب سے بڑا تھا۔ عمران خان نے اڈیالہ جیل سے اسے “حتمی کال” دی۔ بشریٰ بی بی اور گنڈاپور کی قیادت میں ہزاروں کارکن پشاور سے صوابی اور ہزارہ انٹرچینج ہوتے ہوئے اسلام آباد پہنچے۔ پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ صرف خیبر پختونخوا سے 70,000 لوگ شامل تھے۔ بشریٰ بی بی نے ڈی چوک کے قریب دھرنا دینے کا اعلان کیا۔ لیکن 26 نومبر کو ایک گاڑی کی ٹکر سے چھ افراد ہلاک ہوئے۔ پولیس سے جھڑپیں ہوئیں، آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں چلیں۔ رات کو فوج طلب کی گئی، اور کریک ڈاؤن نے احتجاج کچل دیا۔
پی ٹی آئی نے سینکڑوں ہلاکتوں کا دعویٰ کیا، جبکہ سرکاری ذرائع نے 17 شہریوں کی ہلاکت کی بات کی۔ آزاد ذرائع نے چھ ہلاکتوں کی تصدیق کی۔ تقریباً ایک ہزار کارکن گرفتار ہوئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہلاکتوں کے دعوؤں کو پروپیگنڈہ کہا۔ اسپتالوں سے ہلاکتوں کے ریکارڈ چھپانے کی اطلاعات آئیں۔ اس کریک ڈاؤن نے کارکنوں کے حوصلے توڑ دیے۔ مذاکرات کی کوشش ناکام رہی، اور بیرسٹر گوہر کی قیادت میں وفد نے عمران خان سے ملاقاتیں کیں، جو مذاکراتی حکمت عملی کی طرف اشارہ تھا۔
اب پانچ اگست کے احتجاج کے لئےعمران خان کے بیٹوں، قاسم اور سلیمان، کے بارے میں کہا گیا کہ وہ احتجاج کی قیادت کے لیے پاکستان آئیں گے۔ علیمہ خان نے بتایا کہ وہ پہلے امریکہ گئے تاکہ انسانی حقوق کی صورتحال اجاگر کریں، پھر احتجاج میں شامل ہونے کا ارادہ تھا۔ لیکن عمران خان نے اڈیالہ جیل سے منع کر دیا، کہا کہ وہ صرف ملنے آئیں، کیونکہ “احتجاج کے لیے میں کافی ہوں۔” جمائما خان نے حکومتی دھمکیوں پر تنقید کی کہ اگر قاسم اور سلیمان آئے تو انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ اس سے کارکنوں کی امیدوں کو دھچکا لگا۔اس دوران موجودہ دور میں دیکھا جائے تو پارٹی اندورنی طور پر دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے اورپارٹی کے اندر مسائل ہیں کہ بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے خدشہ ظاہر کیا کہ پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی اراکین کی نشستیں خطرے میں ہیں، خاص طور پر 26ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے پانچ اراکین کو نکالنے کے بعد۔ علی امین گنڈاپور کے متنازع بیانات اور سینیٹ کے لیے کارکنوں کو نظر انداز کرنے سے پارٹی کی ساکھ متاثر ہوئی۔ ان کے 90 روزہ تحریک کے اعلان کو کچھ رہنماؤں نے غیر سنجیدہ قرار دیا۔
اب پشاور کے باڑہ سے سہیل افریدی اور مینا خان نے احتجاج کی کال دی ہے، لیکن اس میں وہ پرانا جوش نہیں دکھتا۔ کوہاٹ سے خرم ذیشان اور پشاور سے عرفان سلیم خاموش ہیں، یا ان میں وہ جذبہ نہیں رہا۔ کرک سے شاہد خٹک نے دھماکے دار انٹری کی کوشش کی، لیکن وہ بھی ناکام رہے۔ اج کے احتجاج کے لئے صرف مینا خان اور سہیل افریدی کی ریلیوں کی باتیں سامنے آ رہی ہیں، لیکن باقی رہنما یا تو خاموش ہیں یا ان کا اثر کم ہو گیا ہے۔اس دفعہ عمران خان کی پانچ اگست کو دوسال مکمل ہونے پر اب کارکن مقامی سطح پر سڑکیں بند کر رہے ہیں یعنی 26 نومبر نے پی ٹی آئی کی تحریک کو کمزور کر دیا۔ کریک ڈاؤن، جانی نقصان، قاسم اور سلیمان کی عدم شمولیت، اور اندرونی اختلافات نے حالات بدل دیے۔ اب پارٹی شاید مذاکرات یا قانونی راستوں پر جائے گی، لیکن پرانا جوش واپس لانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ لحاظ علی کی بات سچ لگی. 26 نومبر کے بعد وہ جذبہ کہیں کھو گیا۔