بنوں کا منڈن پارک کبھی ایک عام تفریحی مقام ہوا کرتا تھا، جہاں شہری اپنی فیملیز کے ہمراہ وقت گزارتے تھے۔ مگر اب یہ پارک ایک متنازع بحث کا مرکز بن چکا ہے، جہاں مقامی علماء اور عمائدین نے عوامی مقام اور اخلاقیات کے درمیان حدود کا از سرِ نو تعین کرنے کی مہم شروع کر دی ہے۔
حالیہ دنوں میں میر عباس خان کی زیر صدارت ایک خصوصی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں علما اور مقامی مشران نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں یہ مؤقف اپنایا گیا کہ پارک میں فحاشی اور غیر اخلاقی ماحول میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس بنیاد پر پارک کے لیے نئے سخت ضوابط کا اعلان کیا گیا جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا۔
ان ضوابط میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی شق خواتین کے داخلے پر مکمل پابندی ہے۔ اس کے علاوہ ڈی جے سسٹمز، موسیقی، ڈھول، اور دیگر ایسی سرگرمیوں پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی ہے جنہیں مبہم طور پر “غیر اخلاقی” قرار دیا گیا ہے۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے کسی کی آزادی سلب کرنے کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کو وقار، نظم اور اسلامی اقدار کی جانب رہنمائی کے لیے کیے گئے ہیں۔ ایک سرکاری بیان میں شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ خواتین کو پارک نہ لائیں اور اصلاحی کمیٹی کے فیصلوں کا احترام کریں۔
یہ اقدام کوئی پہلا نہیں ہے۔ اس سے قبل گرین فیملی پارک میں بھی اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جن میں خواتین اور مردوں کے درمیان تفریق کی گئی تھی۔ ان مسلسل پابندیوں نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا عوامی جگہیں سب کے لیے ہیں؟ یا کچھ طبقات کے لیے مخصوص ہو چکی ہیں؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ “غیر اخلاقی” کی تعریف کون کرے گا؟
اسلام اعتدال اور عدل کا دین ہے، جو ہر فرد کو معاشرتی زندگی میں باوقار طریقے سے جینے کا حق دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ…” (النور: 31)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ عورتوں کو معاشرے میں رہنے کے اصول سکھائے گئے ہیں، نہ کہ انہیں مکمل طور پر گھروں تک محدود کرنے کا حکم دیا گیا۔ احادیث مبارکہ میں بھی خواتین کے بازاروں، مساجد اور معاشرتی امور میں شرکت کے واقعات ملتے ہیں، بشرطیکہ وہ پردہ اور حیا کا خیال رکھیں۔
اسلام کا یہ پیغام واضح ہے کہ فحاشی اور بے حیائی ناقابل قبول ہے، لیکن خواتین کو اجتماعی زندگی سے مکمل کاٹ دینا، عدل و حکمت کے خلاف ہے۔
پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 25 کے تحت، عورتوں اور مردوں کے درمیان امتیاز برتنا غیر قانونی ہے۔ کسی بھی عوامی جگہ پر مخصوص طبقے کو روکنے کا اختیار صرف ریاستی اداروں کو حاصل ہے، نہ کہ غیر منتخب کمیٹیوں کو۔
منڈن پارک میں لگنے والی پابندیاں محض ایک مقامی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک بڑے قومی مباحثے کی علامت ہیں: کہ ہمارے معاشرے میں آزادی، مذہب، قانون اور عوامی مفاد میں توازن کیسے قائم کیا جائے؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست ان پابندیوں پر وضاحت طلب کرے، پارکس میں خواتین کی شرکت کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جائے، اور مذہبی علماء و سول سوسائٹی کو باہمی مکالمے کے ذریعے متوازن ضوابط طے کرنے دیے جائیں۔
کیونکہ پارک صرف تفریح کے لیے نہیں، بلکہ ایک صحت مند، متوازن اور اجتماعی معاشرے کے لیے بھی ضروری ہیں۔