پشاور سمیت بنوں اور لکی مروت میں نصف پولیس اسٹیشنز کو نشانہ بنایا گیا
جنوبی وزیرستان اور مہمند میں بھی حملے کئے گئے، رپورٹس
اکوڑہ خٹک خودکش حملے کے ذمہ داران کی شناخت کا دعویٰ
پشاور (غگ رپورٹ) پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے تقریباً نصف درجن اضلاع میں گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران پولیس، فوج اور بعض علماء پر ریکارڈ حملے کئے گئے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ شب پشاور کے علاقے حسن خیل میں پولیس کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ضلع بنوں کے مختلف علاقوں میں موجود 3 پولیس اسٹیشنز پر طالبان گروپوں نے حملے کئے مگر حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے ان تینوں حملوں کو پسپا کردیا ہے۔ اسی طرح لکی مروت میں بھی طالبان نے 2 پولیس اسٹیشنز کو نشانہ بنایا اور یہاں بھی ان کو پسپا کردیا گیا۔
جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں جے یو آئی کے زیر اثر ایک مسجد اور مدرسے پر اسی روز حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں جے یو آئی کے اہم رہنما اور مسجد کے امام مولانا عبداللہ ندیم تین دیگر ساتھیوں سمیت شدید زخمی ہوگئے۔
مہمند اور خیبر میں بھی فورسز پر حملوں کی اطلاعات ہیں مگر ان کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
خیبرپختونخوا کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ دو ہفتے قبل دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک پر کیے گئے خودکش بمبار اور بنوں کینٹ پر اسی نوعیت کے حملے میں ملوث افراد کی شناخت ہوگئی ہے اور اس ضمن میں تفصیلات جلد میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔
خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید کے مطابق تمام حملوں میں نہ صرف غیر ملکی اسلحہ استعمال ہوا بلکہ حملہ آوروں کے ماسٹر مائنڈ اور سہولت کاروں کے کافی ثبوت بھی ہاتھ آگئے ہیں۔ ان کے مطابق کرم کے معاملات میں بھی دہشت گرد گروپوں کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں اس لیے اب اس لائن پر صورتحال سے نمٹنے کا لائحہ عمل بھی اختیار کیا گیا ہے۔
(15 مارچ 2025)