دھماکے میں تین دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں جنہیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا
مفتی منیر شاکر زخمی حالت میں ہسپتال لائے گئے جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے، ترجمان ایل آر ایچ کی تصدیق
علماء کرام پر حملے انتہائی تشویشناک اور قابل مذمت ہے، امن دشمن عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے، بیرسٹر سیف
پشاور (غگ رپورٹ) خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مضافاتی علاقے ارمڑ میں مسجد کے احاطے میں بم دھماکے کے نتیجے میں معروف اسلامی سکالر مفتی منیر شاکر شہید ہوئے جبکہ دھماکے کے نتیجے میں تین دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ترجمان لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) پشاور محمد عاصم کے مطابق مفتی منیر شاکر اور دیگر زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا اور انکا علاج جاری ہے۔ مفتی منیر شاکر شدید زخمی حالت میں ہسپتال لائے گئے جہاں وہ دوران علاج چل بسے۔
پولیس حکام کے مطابق دیگر زخمیوں میں خوشحال، عابد اور سید نبی شامل ہیں۔
دوسری جانب مشیر صحت خیبرپختونخوا احتشام خان نے مفتی منیر شاکر کی شہادت پر اظہارافسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ابتدائی علاج کیلئے ایل آر ایچ منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مفتی منیر شاکر کی وفات پر انتہائی دکھ وافسوس ہوا، علماء کرام پر حملے انتہائی تشویشناک اور قابل مذمت ہے۔ معصوم جانوں کے قاتل انسانیت کے دشمن ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امن دشمن عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی حالات انتہائی مخدوش صورتحال اختیار کرچکے ہیں اور گذشتہ روز بنوں، لکی مروت اور مہمند میں کئی پولیس سٹیشنز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل 28 فروری کو دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم اور جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق حقانی بھی مسجد کے احاطے میں خودکش حملے میں شہید ہوئے تھے۔
(15 مارچ 2025)