بشیر زیب آپریشن گرین بولان کے دوران خود موجود تھے اس لیے نشانہ بنائے گئے، ذرائع
اس کے ایک بھائی کو بھی گزشتہ روز نوشکی میں آپریشن میں ہلاک کردیا گیا، رپورٹس
پشاور (غگ رپورٹ) معتبر صحافتی حلقوں کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ بشیر زیب بلوچ جعفر ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کو خود لیڈ کررہے تھے جس کی نشاندہی ہونے پر سیکورٹی فورسز نے ہیلی کاپٹر اور ڈرونز سے جائے وقوعہ سے کچھ فاصلے پر واقع ان کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوئے ہیں تاہم اس ضمن میں دونوں فریقین میں سے کسی نے ان کی ہلاکت کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی ہے۔
بشیر زیب بلوچ کی مبینہ ہلاکت کی اطلاعات گزشتہ تین چار دنوں سے زیر گردش ہیں مگر کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ان خبروں کے باوجود بشیر زیب کی کوئی نئی ویڈیو یا تصویر جاری نہیں کی ہے جس سے ان کی ہلاکت کی اطلاعات کو تقویت ملتی ہے کیونکہ بی ایل اے ایسا تسلسل کے ساتھ کرتی آرہی ہے۔ اس کے علاوہ بی ایل اے نے اپنے اس دعوے کے ثبوت کے طور پر بھی کوئی فوٹو یا ویڈیو جاری نہیں کی کہ اب بھی کچھ سیکورٹی اہلکار اس کی تحویل یا قبضے میں ہیں۔
معتبر ذرائع کے مطابق 11 مارچ 2015 کو سبی کے علاقے میں کوئٹہ سے پشاور آنیوالی جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے کو بشیر زیب بلوچ خود لیڈ کررہے تھے اور سیکورٹی فورسز نے جب جدید آلات سے گردونواح کی سرویلنس کی تو کچھ ہی فاصلے پر ایک وائرلیس سروس کے ذریعے حملہ آوروں کو ہدایات دینے والے کسی اہم شخص کی نشاندہی کی گئی۔ اس صورتحال کے پیش نظر اس مجوزہ لوکیشن کو ہیلی کاپٹر اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تو وہ رابطہ معطل ہوا۔ بعد میں پتہ چلا کہ نشانہ بنانے والے شخص بشیر زیب بلوچ ہوسکتے ہیں جن کی پلاننگ تھی کہ جب اس کے گروپ کے حملہ آور تمام مغیوں کو قبضہ کریں گے تو وہ خود آکر ایک ویڈیو کے ذریعے ان کے ساتھ بیٹھ کر اپنی “کامیابی” کا باقاعدہ اعلان کریں گے مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا اور فورسز کی حکمت عملی کے باعث ان کی مجوزہ پلاننگ ناکام ہوگئی۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بشیر زیب بلوچ اس آپریشن میں مارے گئے ہیں اور یہ اطلاعات بھی زیر گردش ہیں کہ گزشتہ روز نوشکی میں جس قافلے پر حملہ کیا گیا اس میں بشیر زیب بلوچ کے ایک بھائی کو بھی فورسز کی جوابی کارروائی میں ہلاک کردیا گیا ہے۔
بشیر زیب بلوچ نے سال 2018 کو کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی قیادت سنبھالی اور اس کی انتظامی ڈھانچے اور حملوں کی منصوبہ بندی کی از سر نو تشکیل کرتے ہوئے ریکروٹنگ پر بھی خصوصی توجہ دی جس کے باعث بی ایل اے ایک طاقتور گوریلا گروپ کی شکل اختیار کرگئی۔ وہ بی ایل اے سے قبل بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ( بی ایس او) کے مرکزی چیئرمین کی حیثیت سے طلباء کی سیاست کرتے رہے اور فورسز کو لمبے عرصے تک مطلوب رہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق وہ 2018 کے دوران اسلم بلوچ کی ہلاکت کے بعد بی ایل اے کے سربراہ بنے جبکہ گل رحمان نامی کمانڈر ان کے بعد دوسرے اہم لیڈر کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے۔
نوشکی سے تعلق رکھنے والے بشیر زیب بلوچ نے کنٹرول سنبھال کر بی ایل اے کی چار مختلف شاخیں قائم کرکے اس کی کارروائیوں کو توسیع دی جن میں خودکش سکواڈ مجید بریگیڈ بھی شامل ہیں جس نے دیگر کارروائیوں کے علاوہ بلوچستان اور کراچی میں پانچ خواتین کو بھی خودکش حملوں کے لیے استعمال کیا۔
دفاعی تجزیہ کار بشیر زیب بلوچ کی مبینہ اور غیر مصدقہ ہلاکت کی اطلاعات کو بی ایل اے کے لیے بہت بڑا دھچکا اور نقصان قرار دے رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگر وہ ہلاک ہوئے ہیں تو اس سے بی ایل اے کی طاقت اور صلاحیت میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔
(17 مارچ 2025)