GHAG

ایمل ولی خان کے پی ٹی آئی اور صوبائی حکومت پر سنگین الزامات

عمران خان سب سے بڑا دہشت گرد ہے، وہ  دہشت گردوں کا حامی رہا ہے، ایمل ولی خان

پاکستان کو ہارڈ سٹیٹ بنانے کا فیصلہ ناگزیر ہے مزید خاموش نہیں رہا جاسکتا، صدر اے این پی

پی ٹی آئی سمیت بعض دیگر یا تو طالبان کے حامی ہیں یا ڈرتے ہیں، خصوصی انٹرویو

پشاور (غگ رپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت کو “پرو طالبان” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی سے بچانے کےلئے سافٹ اسٹیٹ سے “ہارڈ اسٹیٹ” بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ ایسا نہ ہونے کی ہم نے بھاری قیمت چکائی ہے اور خیبرپختونخوا کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں گزشتہ 12 برس سے اس پرو طالبان پارٹی کی حکومت ہے جس کے لیڈر کو نہ صرف پوری دنیا طالبان خان کہتی آرہی ہے بلکہ میں ذاتی طور پر عمران خان کو سب سے بڑا “دہشت گرد” سمجھتا ہوں۔

“پختون ڈیجیٹل” سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وزراء اور لیڈرز نہ صرف پروطالبان ہیں اور ان کی سرکاری سرپرستی کررہے ہیں بلکہ یہ لوگ آن دی ریکارڈ طالبان گروپوں کو فنڈنگ بھی کرتے رہے ہیں۔ ایسے لوگوں یا ان کی حکومت سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی توقع کیونکر کی جاسکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جو پارٹیاں طالبان وغیرہ کی مخالفت نہیں کررہیں وہ موجودہ حالات کے یکساں ذمہ دار ہیں، ویسے بھی دہشت گردوں کی مخالفت کے لیے بڑے دل ،گردے اور ہمت کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا شریک ہوئے ایسے میں پی ٹی آئی کی جانب سے یہ تاثر دینا کہ انہوں نے بائیکاٹ کیا، سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ تو ممکن نہیں تھا کہ پوری قیادت نے اجلاس میں شرکت کرنی تھی تاہم اس بات میں شک کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت دہشت گردوں کی حمایت اور سرپرستی کرنے میں مصروف عمل ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مذکورہ اجلاس میں کسی نئے فوجی آپریشن کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی ایسے میں وزیراعلیٰ کا یہ کہنا کہ وہ کسی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے، روایتی پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے تاہم اس بات اور ضرورت سے انکار تو نہیں کیا جاسکتا کہ دہشت گردی کی جاری لہر پر قابو پانے کیلئے سخت اور فیصلہ کن اقدامات تو کرنے ہی پڑیں گے۔

(22 مارچ 2025)

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts