GHAG

فیصلہ کن جنگ کی تیاریاں مگر ابہام پیدا کرنے کی کوششیں جاری

عقیل یوسفزئی

پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے اتوار کو شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے غلام خان میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کے ایک گروپ کو ہلاک کردیا جبکہ پولیس نے متعدد علاقوں میں دہشت گرد گروپوں کے حملوں کو ناکام بنادیا ۔ شمالی وزیرستان کے علاقے غلام خان کلے میں کی گئی کارروائی کے نتیجے میں 16 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا۔ یہ لوگ افغانستان سے شمالی وزیرستان میں داخل ہورہے تھے کہ ان کو نشانہ بنایا گیا۔ اس سے قبل دو دیگر اضلاع میں بھی تین کارروائیاں کی گئیں جس کے نتیجے میں تقریباً نصف درجن دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے ذمہ داران جاری جنگ سے لاتعلق ہیں اور افغانستان سے مذاکرات کا ڈھنڈورا پیٹنے میں مصروف عمل ہیں تاہم ان کی کارکردگی اور دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ صوبائی حکمران شہداء کے جنازوں یا فاتحہ خوانی میں بھی شرکت گوارا نہیں کرتے۔ ایک سوال کے جواب میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ انکشاف کیا کہ افغانستان سے مذاکرات کی خواہش مند صوبائی حکومت ٹی او آرز  سے متعلق غلط بیانی سے کام لے رہی ہے اور یہ کہ اس حکومت نے وفاقی حکومت کو ٹی او آرز سے متعلق کوئی مسودہ نہیں بھیجا ہے۔ گورنر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا پر ہونے والے 80 فیصد سے زائد حملوں میں افغان سرزمین براہ راست استعمال ہوتی آرہی ہے اور ہم پر ہونے والے حملوں میں اربوں ڈالرز کا وہ جدید اسلحہ استعمال ہوتا آرہا ہے جو کہ امریکہ انخلاء کے دوران افغانستان میں چھوڑ گیا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان بار بار افغانستان کی عبوری حکومت سے مطالبہ کرتا آرہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کا سلسلہ روک دے مگر یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور پاکستان اس سے متاثر ہورہا ہے۔

یہ بات بہت عجیب ہے کہ عین اسی دوران خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اسی موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان اور دیگر نے دو سپر پاورز کو شکست دی ہے ہم ان کے ساتھ لڑنے کے لیے وسائل بھی نہیں رکھتے اس لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ لڑنے کی بجائے مذاکرات کئے جائیں کیونکہ ان کے بقول ایسے مسائل جنگ کی بجائے مذاکرات ہی کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں ۔

اس ضمن میں اے این پی کے مرکزی سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے اور انہوں نے جاری جنگ اور دہشت گردی کی تمام ذمہ داری پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نہ صرف طالبان وغیرہ کے حامی رہے ہیں بلکہ وہ ان کو بڑا دہشت گرد قرار دیتے ہیں اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت سے دہشتگردوں کے خلاف اقدامات کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کسی نئے آپریشن کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشتگردی کی جاری لہر پر قابو پانے کا کوئی دوسرا راستہ کیا ہے؟

جہاں تک وفاقی حکومت کی پالیسی کا تعلق ہے وہ اور پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ اس معاملے پر ایک پیج پر ہیں جو کہ اچھی بات ہے کیونکہ ان کو صورتحال کی سنگینی کا بخوبی احساس ہے تاہم پی ٹی آئی کا رویہ پرو طالبان ہے اور وزیر اعلیٰ عملاً طالبان کی ترجمانی کرتے مذاکرات کی وکالت کرتے دکھائی دیتے ہیں حالانکہ یہ آئینی طور پر صوبائی حکومت کا ڈومین ہی نہیں ہے۔  اس صورتحال نے عوام کو بھی کنفیوژن سے دوچار کردیا ہے اور صوبائی حکومت کے سول اداروں خصوصاً پولیس فورس کو بھی پالیسی کے تناظر میں سخت ابہام کا سامنا ہے جس کا تمام تر فائدہ حملہ آور گروپ اٹھاتے ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے گزشتہ روز ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ اگر افغانستان سے پاکستان پر ہونے والے حملوں کا تدارک نہیں کیا گیا تو پاکستان وہاں جاکر کارروائیاں کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ دوسری جانب افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق خان کابل کے تین روزہ دورے پر ہیں جہاں انہوں نے اہم افغان عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔

ان تمام متضاد بیانات اور سرگرمیوں کا خلاصہ یہ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی جنگ اگر ایک جانب فورسز کی لیول پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے تو دوسری جانب ایک بڑا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ پولیٹیکل اسٹیک ہولڈرز اس نازک مسئلہ پر ایک پیج پر رہنے کی بجائے اب بھی پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف عمل ہیں اور اس سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا جس کی ضرورت ہے۔

(24 مارچ 2025)

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts