GHAG

صوبائی حکومت کی فرسٹریشن میں کیے جانے والے فیصلے اور سخت جوابی ردعمل

رمضان پیکیج کے نام پر 10 ارب سے زائد کی رقم کارکنوں میں تقسیم کرنے کی واردات

ایک متنازعہ اینکر پرسن کے نام سے پشاور یونیورسٹی کا شعبہ صحافت منسوب کرنے کا اعلان

صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے، تجزیہ کاروں کی رائے

پشاور (غگ رپورٹ) خیبرپختونخوا کی حکومت فرسٹریشن کا شکار ہوگئی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر نہ صرف یہ کہ عجیب وغریب فیصلے سامنے لائے جارہے ہیں بلکہ صوبے کو بیڈ گورننس کے علاوہ کھلے عام کرپشن کا بھی سامنا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ صوبائی حکومت نے رمضان پیکیج کے نام پر 10 ارب سے زائد کی بھاری رقم حقداروں کی بجائے اپنے وزراء اور ممبران اسمبلی میں بانٹ دیے ہیں اور اس مقصد کے لیے اپنے ہزاروں کارکنوں کی باقاعدہ فہرستیں تیار کی گئیں۔ اے این پی اور بعض دیگر پارٹیوں نے اس ظالمانہ اقدام کے خلاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے مگر حکومت خاموش بیٹھی ہے اور وضاحت بھی پیش نہیں کررہی۔

دوسری جانب اعلیٰ تعلیم کے وزیر مینا خان آفریدی نے گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ صوبائی حکومت کینیا میں مارے جانے والے ایک متنازعہ اور پرو پی ٹی آئی اینکر پرسن ارشد شریف کے نام پر پشاور یونیورسٹی کی جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ منسوب کرنے جارہی ہے۔ اس اعلان پر نہ صرف صحافیوں اور سیاسی حلقوں کا شدید ترین ردعمل سامنے آیا ہے بلکہ پی ٹی آئی کے اہم قائدین سمیت کارکنوں کی مخالفت بھی سامنے آئی ہے جن میں متعدد صوبائی وزراء بھی شامل ہیں۔

اس فیصلے پر صوبے کے مختلف صحافتی عہدیداروں نے شدید نوعیت کا عدم اعتماد کرتے ہوئے اسے رد کردیا ہے۔ اسی ڈیپارٹمنٹ کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر فیض اللہ جان نے اپنی بات چیت میں واضح کردیا ہے کہ یہ صوبے کے صحافیوں کی توہین اور امن کے قیام کے لیے قربانی دینے والوں کا مذاق اڑانے والا اعلان ہے۔ ان کے مطابق ارشد شریف ایک متنازعہ کردار رہے ہیں اور ان کی ہلاکت پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

اس تمام صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی عارف یوسفزئی نے  “خیبر نیوز” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو بدترین نوعیت کی بدامنی اور بیڈ گورننس کے علاوہ کھلے عام کرپشن کا سامنا ہے۔ ان کے بقول پی ٹی آئی کے رہنما نہ صرف کالعدم ٹی ٹی پی وغیرہ کو ترقیاتی منصوبوں میں “کمیشن” دیتی آرہی ہے بلکہ وزیر اور لیڈرز بھتہ بھی دیتے ہیں۔ عارف یوسفزئی کے مطابق عوام کا پی ٹی آئی کے علاوہ پورے جمہوری نظام سے اعتماد ختم ہوگیا ہے۔

اسی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حامد الحق حقانی کے صاحبزادے عبدالحق ثانی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ان کے والد کی شہادت کے 26 دن گزرنے کے باوجود نہ تو قاتلوں کا کوئی سراغ لگایا نہ ہی حکومتی سطح پر ان سے اس ضمن میں کسی رابطے کی کوشش کی گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے پشاور میں شہید کیے گئے مفتی منیر شاکر کے بیٹے عبداللہ شاکر نے انکشاف کیا کہ اعلیٰ پولیس افسران نے رابطے منقطع کرتے ہوئے ان سمیت ان کے ساتھیوں کے واٹس ایپ بلاک کردیے ہیں اور کسی بھی حکومتی عہدیدار یا پی ٹی آئی لیڈر نے ان کے ساتھ رابطہ کرنے یا اظہار ہمدردی کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ عید کے بعد مذکورہ واقعے اور حکومتی لاتعلقی کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔

(26 مارچ 2025)

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts