GHAG

کرد مزاحمت کار بی ایل اے کو سپورٹ کرتے آرہے ہیں، محمد عامر رانا کا انکشاف

بلوچ اور کرد مزاحمت کاروں کے درمیان کافی گہرے مراسم قائم ہیں

خودکش حملوں کو صرف مذہبی گروپوں تک محدود کرنا درست نہیں ہے، خصوصی انٹرویو

پشاور (غگ رپورٹ) پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر اور ممتاز تجزیہ کار محمد عامر رانا نے انکشاف کیا ہے کہ بی ایل اے سمیت بلوچ مزاحمت کاروں کے کرد باغی گروپوں کے ساتھ سیاسی، نظریاتی اور تنظیمی روابط کافی عرصے سے قایم ہیں اور کرد گروپ بلوچ مزاحمت کاروں کو باقاعدہ سپورٹ بھی کرتے ہیں۔

ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جب جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں تعلیم کے فروغ سمیت دیگر ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے تو اس سلسلے کے باعث بلوچ سرداروں کا اثر کم ہوگیا اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ذریعے پڑھے لکھے جوان مزاحمتی گروپوں کا حصہ بن گئے جس کے نتیجے میں آج صورتحال کافی پیچیدہ ہوتی دکھائی دیتی ہے تاہم اس پوری مزاحمت کو متعدد گروپوں اور ممالک کی سرپرستی حاصل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عامر رانا کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ خودکش حملے صرف مذہبی انتہا پسند گروپ کرتے ہیں، قوم پرست اور دیگر مذاہب کے انتہا پسند گروپ بھی خودکش حملوں کو لمبے عرصے سے استعمال کرتے آرہے ہیں اور اس ضمن میں سری لنکا اور بھارت کی مثال دی جاسکتی ہے۔

کالعدم ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوات آپریشن اور ضرب عضب کے نتیجے میں ان گروپوں کی طاقت واقعتاً توڑ کر رکھ دی گئی تھی تاہم دہشت گرد گروپ ختم نہیں ہوئے تھے۔ سال 2018 تک حالات پر کافی قابو پایا گیا تھا تاہم بعض اندرونی سیاسی معاملات اور اگست 2021 کے دوران افغانستان میں طالبان کی ٹیک اور کے بعد دہشتگردی میں مزید اضافہ ہوگیا اور اس وقت اگر ایک طرف بلوچستان بلوچ لبریشن آرمی اور ایسے دیگر کے حملوں کی زد میں ہے تو خیبرپختونخوا کو کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر کے مسلسل حملوں کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ محض فوجی کارروائیوں سے دہشتگردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے اس کے خاتمے کے لئے ریاست کو سیاسی، معاشی، انتظامی، سماجی اقدامات اور اصلاحات پر بھی توجہ دینی ہوگی۔

(27 مارچ 2025)

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts