GHAG

چین امریکہ سرد جنگ: خطے پر پڑنے والے اثرات، مواقع اور چیلنجز

خالد خان

چین کی ترقی ایک داستان نہیں بلکہ حقیقت ہے، ایک ایسا تسلسل جس نے دنیا کے معاشی اور سیاسی خدوخال بدل کر رکھ دیے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں چین نے جس برق رفتاری سے اقتصادی میدان میں فتوحات حاصل کی ہیں، وہ نہ صرف مغرب کے لیے حیران کن ہیں بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک سبق بھی۔ ایک ایسا ملک جو کبھی افیون کے نشے میں ڈوبا ہوا بھوک اور افلاس کا شکار تھا اور جو خانہ جنگیوں کے بھینٹ چڑھا ہوا تھا، آج وہی چین دنیا کے سب سے بڑے معاشی منصوبے، شاہراہِ ریشم اقتصادی راہداری، کا معمار بن چکا ہے۔ یہ محض ایک انفراسٹرکچر منصوبہ نہیں بلکہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جس نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے—ایک وہ جو اس سے جُڑ رہے ہیں، اور دوسرے وہ جو اسے روکنے کے درپے ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ منصوبہ زندگی کی ایک نئی امید ہے، مگر ساتھ ہی ہندوستان کی مخالفت، مغربی طاقتوں کی تشویش اور خطے میں دہشت گردی کی نئی لہر اس کے راستے میں سنگین چیلنجز بھی پیدا کر رہی ہے۔ چین-پاکستان اقتصادی راہداری، جو اس منصوبے کا سب سے اہم جز ہے، پاکستان کے جغرافیائی اور اقتصادی مستقبل کو برق رفتاری کے ساتھ بدلنے کی اہلیت، صلاحیت اور طاقت رکھتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس تقدیر ساز منصوبے کی ہندوستانی مخالفت کوئی افسانہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ یہ منصوبہ اپنے دامن میں ایران کے لیے بھی بہت کچھ لیا ہوا ہے جس سے استفادے کے لیے ایران کو از سر نو اپنی سیاست، نظریات اور سفارتکاری کا جائزہ لینا ہوگا۔ ایران کے لیے یہ ایک بہت بڑا موقع ہے کہ وہ دہائیوں سے مسلط عالمی تنہائی سے نجات حاصل کرکے بین الاقوامی سرگرمیوں کا حصہ بنے۔ ایران کو طے کرنا ہوگا کہ وہ کس حد تک اس منصوبے کا حصہ بن سکتا ہے، یا اس منصوبے کے مخالف سمت میں کھڑا ہو کر کیا حاصل کرسکتا ہے۔ کیا مخالفت ایران کو مزید کھونے کی راہ پر ڈالے گی یا یہی وہ موقع ہے کہ وہ عالمی سیاست میں لوٹ کر آئے۔ یورپ کو بھی امریکی اثر سے نکل کر حقیقت پسندانہ طور پر اس منصوبے کے مضمرات اور افادیت کو خالصتاً یورپی مفادات کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کے لیے ان تمام سوالات کے جوابات تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ پاکستان اپنی سمت متعین کر سکے اور ایک بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہو سکے۔

چین نے اپنی ترقی کے لیے جو ماڈل اپنایا، وہ کسی جادوئی نسخے سے کم نہیں۔ 1978 میں ڈینگ ژیاؤپنگ کی قیادت میں اصلاحات کا آغاز ہوا، جو اشتراکی معیشت سے نکل کر مارکیٹ اکانومی کی طرف لے جانے کی بنیاد بنی۔ اسی تبدیلی نے چین کو تیزی سے صنعتکاری، برآمدات، اور بنیادی ڈھانچے کے عظیم منصوبوں کی جانب دھکیل دیا۔ آج چین 18 ٹریلین ڈالر کی معیشت کے ساتھ دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکا ہے اور امریکہ کو معاشی طور پر پیچھے چھوڑنے کے قریب ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے حکومتی منصوبہ بندی، استقامت، اور دور اندیشی جیسے عوامل کارفرما ہیں، جو اکثر ترقی پذیر ممالک میں ناپید نظر آتے ہیں۔ شاہراہِ ریشم اقتصادی راہداری اسی ترقی کا ایک تسلسل ہے، جو قدیم تجارتی راستوں کو جدید شکل میں بحال کر رہا ہے۔ چین نے 150 سے زائد ممالک میں سرمایہ کاری کی ہے، جس کے تحت سڑکیں، بندرگاہیں، ریلویز، اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔ پاکستان اس منصوبے میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس کا مقصد گوادر کو ایک عالمی تجارتی مرکز میں بدلنا، صنعتی زونز قائم کرنا، اور توانائی بحران کو حل کرنا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ منصوبہ ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے، لیکن ہندوستان اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ بھارت ہمیشہ سے پاکستان میں استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا رہا ہے، مگر چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے آغاز کے بعد اس کی تخریبی سرگرمیوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی، گلگت بلتستان میں بدامنی، اور خیبر پختونخوا میں شدت پسند گروہوں کی سرپرستی—یہ سب اسی جنگ کا حصہ ہیں۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری نے اس بات کو واضح کر دیا کہ بھارت نہ صرف بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کی پشت پناہی کر رہا ہے بلکہ اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لیے بھی سرگرم ہے۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر دراصل اس بڑے کھیل کا حصہ ہے جہاں علاقائی اور عالمی طاقتیں اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی جیسے گروہوں کی دوبارہ متحرک ہونے کی وجوہات کو اگر گہرائی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے وہی قوتیں کارفرما ہیں جو اس منصوبے کو ناکام بنانا چاہتی ہیں۔ چین کا یہ عظیم منصوبہ صرف معاشی نہیں بلکہ جیو پولیٹیکل بھی ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر ایک نئی سرد جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔

ایران کا کردار بھی اس حوالے سے خاصا دلچسپ ہے۔ ایک طرف ایران اور چین نے 400 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور عسکری تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے، مگر دوسری جانب بھارت اور ایران کا چاہ بہار منصوبہ گوادر کے متبادل کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ ایران کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں ہوگا کہ وہ چین کے ساتھ مکمل طور پر جڑ جائے یا بھارت کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات برقرار رکھے۔ مگر چین-ایران معاہدہ یہ عندیہ دیتا ہے کہ تہران بیجنگ کے زیادہ قریب ہو رہا ہے۔

امریکہ کی اس منصوبے سے مخالفت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ امریکہ اس خدشے میں مبتلا ہے کہ چین کی معاشی بالادستی اس کی عالمی اجارہ داری کو کمزور کر دے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا چین کی ترقی امریکہ کی تباہی ہے؟ کیا ایک مستحکم چین عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے؟ یا یہ صرف امریکہ کی وہ پرانی ذہنیت ہے جو کسی دوسری طاقت کو تسلیم نہیں کرنا چاہتی؟ اگر چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو امریکہ خود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے تو کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ وہ بھی جیو اور جینے دو کی پالیسی اختیار کرے؟ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اس مخالفت میں دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اقتصادی جنگ، ٹیکنالوجی کی جنگ، اور جغرافیائی سیاست کی جنگ، سبھی کچھ اس سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ امریکہ نے ہمیشہ ایسی ہی پالیسیاں اپنائی ہیں، چاہے وہ مشرق وسطیٰ میں جنگوں کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ ہو یا ویتنام اور کوریا میں طاقت کے مظاہرے۔ آج یہی روش چین کے خلاف اختیار کی جا رہی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ خود کو دہرائے گی؟ کیا دنیا ایک اور عالمی جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟ یا یہ وقت حقیقت پسندانہ فیصلے لینے کا ہے؟

یہ تمام عوامل پاکستان کے لیے ایک اہم سبق رکھتے ہیں۔ اگر پاکستان اس منصوبے کے ثمرات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، تو اسے داخلی استحکام، مضبوط سفارت کاری، اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے پر توجہ دینی ہوگی۔ سیکیورٹی کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اور ترقی کے بغیر خودمختاری ایک سراب ہے۔

شاہراہِ ریشم اقتصادی راہداری ایک نئی عالمی ترتیب کی علامت ہے، جس میں پاکستان ایک مرکزی کھلاڑی بن سکتا ہے—مگر کیا ہم اس کردار کے لیے تیار ہیں؟ یہ فیصلہ ہماری قیادت کی بصیرت اور عوام کی امیدوں پر منحصر ہے۔

(27 مارچ 2025)

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts