خالد خان
ہم ایک ایسے ملک کے باسی ہیں جہاں اگرچہ گنگا نہیں بہتی، مگر بعض لوگ یہاں اپنی نجی گنگائیں کھود کر بہا رہے ہیں۔ ان گنگاؤں میں غوطے لگا کر وہ حرام کا مال دھونے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ یہ کوششیں ناکام اس لیے ہوتی ہیں کہ ان تمام نجی گنگاؤں کا سرچشمہ وہی ہندوستانی گنگا ہے جس سے کلبھوشن یادیو بھی سیراب ہوتا رہا، جس میں ابھی نندن نے بھی پاکستان سے واپسی پر اپنی دھوتی دھوئی تھی، اور جس میں ہندوستانی فوج کے ریٹائرڈ میجر گوراو آریا بھی غوطے لگا کر پاکستان کے خلاف ٹی وی پر بیٹھ کر زہر اگلتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان دشمنی، وطن فروشی اور مذہبی نیلامی کے نام پر جو حرام مال اوپر سے نیچے تک جمع کیا، اس کی دھلائی گنگا کے دھوبی گھاٹ پر بھی ممکن نہیں ہو سکی۔ یہ حرام کی بوٹیوں سے بھری ہوئی ہانڈی بالآخر ڈیجیٹل میڈیا کے بیچ چوراہے پر پھوٹ پڑی۔ وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے: “مالِ حرام، حرام رفت”۔ اور ہاں، یہ بھی تو کہا گیا ہے نا کہ “جتھے دی کھوتی، اوتھے آں کھلوتی”۔
باخبر صحافی فخر درانی کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان اور پی ٹی آئی کے ڈیجیٹل میڈیا کے نگران جبران الیاس کے درمیان ڈالرز کی بندربانٹ پر شدید لڑائی ہوئی ہے۔ اگر غیر جانبدارانہ بات کی جائے تو پی ٹی آئی ایک ہوائی پارٹی تھی، جو ہوا کے دوش پر ہوائی ناعاقبت اندیشوں نے بنائی تھی۔ جی ہاں! پی ٹی آئی ڈیجیٹل میڈیا پر بنی، مقبول ہوئی اور پھر اسی ڈیجیٹل میڈیا کو ڈیجیٹل دہشت گردی میں بدل دیا۔ یہ ایک مادر پدر آزاد گروہ تھا، جسے پی ٹی آئی کی قیادت نے ڈالرز بٹورنے کے لیے مکمل آزادی دے دی۔ ان ڈیجیٹل دہشت گردوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ پاکستانی اداروں، ان کے سربراہان اور حساس شخصیات کو بھی نہیں بخشا۔ خوب زہر اگلا اور خوب پیسہ کمایا۔ بہت سے فٹ پاتھی یوٹیوبرز کی زندگیاں بدل گئیں۔ مگر یہ سب نہ صرف پی ٹی آئی سے وابستہ ڈیجیٹل بلونگڑوں اور یوٹیوبرز نے ہڑپا، بلکہ عمران خان اور ان کے خاندان نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔
اب چونکہ یہ کھیل اختتام کے قریب ہے، تو وفاداریاں بھی تیزی سے بدل رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کے تین بڑے سوشل میڈیا اکاؤنٹس براہ راست عمران خان سے منسلک ہیں۔ امریکہ میں مقیم جبران الیاس کو پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کا سربراہ کہا جاتا ہے، جو مختلف وی لاگرز اور سوشل میڈیا پر سرگرم افراد سے رابطے میں رہتا ہے۔ طریقہ کچھ یوں تھا کہ علیمہ خان، عمران خان کی ہدایت پر، پارٹی کے آفیشل سوشل میڈیا کے لیے بیانات جاری کرتی، اور جبران الیاس کے ساتھ مل کر پارٹی کا بیانیہ تشکیل دیتی۔ اظہر مشوانی، جو پہلے پاکستان میں تھے اور 9 مئی کے واقعات کے بعد برطانیہ منتقل ہو گئے، وہ اور علی ملک بھی ان دونوں کی پاکستان مخالف مہم میں شامل رہے۔
بالآخر ریاست کا پیمانۂ صبر لبریز ہوا، اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نیٹ ورک، علیمہ خان اور جبران الیاس پر تحقیقات کا آغاز ہوا۔ علیمہ خان کو جے آئی ٹی میں طلب کر لیا گیا۔ 26 مارچ 2025 کو علیمہ خان جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئیں، جہاں ان سے تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ اس سے قبل وہ 19 مارچ کو بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو چکی تھیں۔ تحقیقات میں پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور عمران خان کے ذاتی اکاؤنٹ سے متعلق سوالات کیے گئے۔ سرکاری تحقیقات سے معلوم ہوا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بیرون ملک سے عمران خان کے نامزد کردہ افراد چلاتے رہے ہیں۔ ان اکاؤنٹس پر فالوورز کی بڑی تعداد ہے، اور ان کے ذریعے پھیلائے جانے والے مواد پر پارٹی کے دیگر رہنماؤں کا کوئی کنٹرول نہیں۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اگر ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کوئی فوجداری کارروائی ہوتی ہے، تو اس کا براہِ راست اثر عمران خان پر پڑے گا، کیونکہ یہ تمام اکاؤنٹس عمران خان کے براہ راست کنٹرول میں تھے۔
جونہی تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوا، علیمہ خان اور جبران الیاس کو اپنی چھری پانی میں صاف نظر آنے لگی۔ بھاگتے چور کی لنگوٹی سہی کے مصداق، دونوں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوگئے۔ علیمہ خان کا مؤقف ہے کہ چونکہ بیانیہ عمران خان کا تھا، اس لیے سوشل میڈیا سے ہونے والی ساری کمائی پر انہی کا حق ہے۔ دوسری طرف جبران الیاس کا مؤقف ہے کہ اگر اس کی محنت نہ ہوتی، تو یہ پروپیگنڈا کبھی کامیاب نہ ہوتا، لہٰذا وہ آدھی کمائی کا حقدار ہے۔ یہ آپسی جھگڑا نہ صرف جاری منفی پروپیگنڈے کے اختتام کا باعث بنے گا، بلکہ تمام اصل حقائق بھی اس لڑائی میں سامنے آ جائیں گے۔
جے آئی ٹی پہلے سے تیار بیٹھی ہے، اور قانون کے مطابق عمران خان، علیمہ خان اور جبران الیاس خطرناک جرائم کے مرتکب ہو چکے ہیں۔ ان کا اگلا ٹھکانہ اڈیالہ جیل ہی ہوگا۔ علیمہ خان اور جبران الیاس دونوں اڈیالہ جیل میں شدید تکلیف میں ہوں گے۔ جبران الیاس کی کلاس عمران خان خود مردانہ احاطے میں لیں گے۔ علیمہ خان کو زنانہ احاطے میں بشریٰ بی بی کے ساتھ رہنا پڑے گا، جن سے شدید نفرت کے باعث انہوں نے بنی گالہ جانا ترک کر دیا تھا۔ یہ کہانی پی ٹی آئی کی تباہی، اس کے سوشل میڈیا گینگ کے خاتمے اور “حرام کے ڈالروں” کی بندر بانٹ پر ہونے والی آپسی چپقلش کا عبرت ناک انجام ہے۔ انجامِ کار، گنگا الٹی بہہ گئی، اور اب پی ٹی آئی کا ہر کارندہ اپنی جان بچانے کے لیے دوسرے کو ڈبونے پر تُلا ہوا ہے۔
(28 مارچ 2025)