افغان اور بعض پشتون قوم پرست ڈیورنڈ لائن وغیرہ کی چکر سے نکل آئیں،ڈاکٹر عثمان علی
نام و نہاد یوٹیوبرز اور مخصوص پارٹی بھارتی لاین فالو کرنے میں مصروف ہیں، سعدیہ ستار
پاکستان کی جغرافیائی اہمیت مسلمہ ہے ، اسے قدرت نے بے پناہ وسائل سے نوازا ہے، خالد خان
پشاور (غگ رپورٹ) نامور تجزیہ کاروں نے پاکستان کو خطے کا ایسا ایک ملک قرار دیا ہے جس کے امن اور استحکام سے علاقائی امن سے علاقائی اور عالمی امن جڑا ہوا ہے۔
بیرسٹر ڈاکٹر عثمان علی، کینیڈا میں مقیم تجزیہ کار
“سنو پختونخوا” کے پروگرام “ڈائیلاگ” میں گفتگو کرتے ہوئے کینیڈا میں مقیم ممتاز پشتون تجزیہ کار اور دانشور بیرسٹر ڈاکٹر عثمان علی نے کہا کہ پاکستان مخالف سرگرمیوں کی ایک بڑی وجہ اس ملک کی جغرافیائی اور عسکری اہمیت بھی ہے جبکہ افغانستان کے خراب حالات بھی پاکستان کے مسائل میں کردار ادا کرتے آرہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض قوم پرستوں اور افغانوں کو پاکستان کو دل سے تسلیم کرتے ہوئے ڈیورنڈ لائن اور پختونستان جیسے ایشوز سے نکل کر یہ بات ماننی پڑے گی کہ پاکستان ایک طاقتور ریاست کے طور پر اب ایک حقیقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین کھلے عام پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کی بنیادی وجہ بھی افغان حکومت کا یہی رویہ ہے کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کی سرپرستی کرتی آرہی ہے ۔ اگر خطے کا امن قائم رکھنا ہے تو اس کے لیے لازمی ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کرکے کراس بارڈر ٹیررازم اور منفی طرزِ عمل سے گریز کا راستہ اختیار کیا جائے۔
سعدیہ ستار، تجزیہ کار
نامور تجزیہ کار سعدیہ ستار نے اس موقع پر کہا کہ ڈالر گیم میں ملوث بعض عناصر کے علاوہ ایک مخصوص پارٹی اور بعض قوم پرست پاکستانی ریاست کی مخالفت میں نہ صرف یہ کہ بھارتی مہم جوئی اور پروپیگنڈا کو فالو کرنے میں مصروف عمل ہیں بلکہ بعض کو باقاعدہ فنڈنگ بھی کی جاتی ہے اور جب ریاست ان کی فیک نیوز اور پروپیگنڈا مشینری کے خلاف حرکت میں آجاتی ہے تو دوسری جانب سے اظہار رائے کا شور مچانے کا سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے تاہم اب ریاست کو نہ صرف یہ کہ دہشت گردوں کے خلاف سخت اقدامات کرنا پڑیں گے بلکہ ان ڈیجیٹل دہشت گردوں کے ساتھ بھی کسی دباؤ میں آئے بغیر آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا۔ سعدیہ ستار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ بات بہت افسوسناک ہے کہ مذکورہ عناصر پاکستان دشمنی میں نریندر مودی جیسے اس قاتل کا دفاع بھی کرتے ہیں جس پر امریکہ نے گجرات میں مسلمانوں کو قتل کرنے کی پاداش میں اپنے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔ ان کے بقول پاکستان ایک مضبوط ریاست ہے تاہم منفی پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کے ساتھ اب مزید کوئی رعایت نہیں برتی چاہیے۔
خالد خان، تجزیہ کار
دانشور اور کالم نگار خالد خان نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو کسی دباؤ میں آئے بغیر افغان مہاجرین کی واپسی کے فیصلے پر عمل درآمد کرانے کی ضرورت ہے یہ لوگ اپنے ملک جاکر زندگی بسر کریں کیونکہ اب وہاں کوئی غیر ملکی مداخلت نہیں ہورہی اور پاکستان میں مہاجرین کے قیام کا جواز ختم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت کے علاوہ اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث خطے کا اہم ترین ملک ہے اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ مختلف پراکسیز کا مرکز بنا ہوا ہے تاہم یہ حقیقت سب پر عیاں ہوگئی ہے کہ پاکستان کے امن اور استحکام سے نہ صرف پورے خطے بلکہ دنیا کا امن جڑا ہوا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ امریکہ نے چند روز قبل دہشت گرد گروپ ٹی ٹی پی کو دوسروں کے علاوہ امریکہ کے لیے بھی خطرہ قرار دیدیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قدرت نے لامحدود وسائل اور خزانوں سے نواز رکھا ہے اور یہ بات قابل ستائش ہے کہ 8 اور 9 اپریل کو اسلام آباد میں منرلز سمٹ کا انعقاد ہورہا ہے جس میں دنیا بھر سے متعلقہ ماہرین اور بزنس کمیونٹی کو یہ بتایا جائے گا کہ پاکستان اس حوالے سے کتنی اہمیت کا حامل ملک ہے۔
عقیل یوسفزئی، ڈائریکٹرنیوز اینڈ کرنٹ افیئرز سنوپختونخوا
پروگرام کے میزبان اور ” سنو پختونخوا ” کے ڈائریکٹر نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز عقیل یوسفزئی نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فزیکل ٹیررازم کی طرح ڈیجیٹل دہشت گردی نے بھی پاکستان کی ریاست، سیاست اور معاشرت کے لیے ایک بڑے چیلنج کی شکل اختیار کرلی ہے اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے لازمی ہے کہ پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز ایک پیج پر آکر اپنا اپنا کردار ادا کریں تاکہ نئی نسل کو نفرت اور مایوسی سے بچایا جاسکے۔
(29 مارچ 2025)