عقیل یوسفزئی
خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ڈیپارٹمنٹ آف جرنلزم اور ماس کمیونیکیشن کو مرحوم اینکر پرسن ارشد شریف کے نام سے منسوب کرنا چاہتی ہے ۔ اس اعلان پر نہ صرف خیبر یونین آف جرنلسٹس ، پشاور پریس کلب اور صوبے کے دیگر جرنلسٹس باڈیز نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے بلکہ یہ واحد اعلان ہے جس پر پی ٹی آئی سمیت تقریباً تمام سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں نے ناپسندیدگی ظاہر کی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس تاریخی ڈیپارٹمنٹ کا نام تبدیل کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ مرحوم نہ صرف متنازعہ اینکر پرسن رہے ہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے حوالے سے ان کی کوئی کنٹری بیوشن بھی نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ پشاور اور خیبرپختونخوا دیگر شعبوں کی طرح صحافت کے میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے بلکہ اس صوبے نے عالمی سطح کے بہترین صحافی اور تجزیہ کار پیدا کئے ہیں ۔ بدامنی اور سیکورٹی صورتحال پر ان لیڈنگ جرنلسٹس نے پوری دنیا میں اپنا نام بنایا ہے اور اس تمام عرصے میں بڑی قربانیاں بھی دے رکھی ہیں۔ پشاور پریس کلب واحد کلب ہے جس پر خودکش حملہ بھی کیا گیا ہے ۔ اسی طرح قبائلی علاقوں اور ملاکنڈ ڈویژن کے صحافیوں نے بھی اس جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں ۔ اگر کسی ڈیپارٹمنٹ کا نام کسی سے منسوب کرنا ہی ہے تو اپنے صوبے کے کسی سینئر صحافی کا انتخاب کیوں نہیں کیا جاسکتا ؟
ہمارے پاس متعدد ایسے صحافی اور تجزیہ کار موجود ہیں جن پر ہم بجا طور پر فخر کرسکتے ہیں ۔ جن صحافیوں نے رسک لیکر جاری جنگ کے دوران وار رپورٹنگ کی ہے ان میں مرحوم رحیم اللہ یوسفزئی ، مرحوم سہیل قلندر ، اسماعیل خان ، شمیم شاہد ، ایم ریاض ، سلیم صافی ، عادل شاہ زیب ، مشتاق یوسفزئی ، الیاس خان ، فرزانہ علی ، جمشید باغوان ، فخر کاکاخیل ، صفی اللّٰہ گل ،طاہر خان ، ناصر داوڑ ، ظاہر شاہ شیرازی ، سعدیہ قاسم شاہ ، انیلا خان ، سمیرا خان ، انیلا شاہین ، حسن خان ، شمس مومند ، سید وقاص شاہ ، عارف یوسفزئی ، رفعت اورکزئی اور متعدد دیگر شامل ہیں۔ نئی نسل میں افتخار فردوس ، عرفان خان ، احسان محسود ٹیپو ، لحاظ علی ، فدا عدیل اور فہیم خان ، رسول داوڑ اور متعدد دیگر کی وار رپورٹنگ کو بھی بجا طور پر قابل ستائش قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ تمام لوگ خود کو خطرے میں ڈال کر مین سٹریم میڈیا کے ذریعے عوام اور پوری دنیا کو اس خطے کے حالات سے باخبر رکھتے آئے ہیں اور کسی سے ستائش یا مراعات وغیرہ کی توقع بھی نہیں رکھتے ۔ ایسے میں ایک اس قسم کے فیصلوں اور اقدامات کا اس سے بڑھ کر دوسرا کوئی مقصد سمجھ میں نہیں آتا کہ صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی اپنے صوبے کے لوگوں کو کمتر سمجھنے کی پالیسی پر گامزن ہیں جو کہ افسوسناک ہے۔
اسی طرح خیبرپختونخوا کے تجزیہ کاروں نے بھی اس تمام مشکل دور میں بہت خدمات سرانجام دی ہیں ۔ ان میں ہم بطور مثال ڈاکٹر اختر علی شاہ ، پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد چترالی ، شیراز پراچہ ، احسان غنی ، بریگیڈیئر محمود شاہ ، حسین شہید سہروردی ، ڈاکٹر فخر الاسلام اور متعدد دیگر کے نام لے سکتے ہیں جو کہ سیکورٹی معاملات ، افغانستان ، قبائلی علاقوں اور عالمی امور پر حقیقت پسندانہ تبصرے کرتے آئے ہیں اور ان سب کو ملک گیر شہرت حاصل ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پی ٹی آئی اور وفاقی ، صوبائی حکومتیں ان مشکل حالات میں صوبے کی نمائندگی کرنے والے ان تمام افراد کی عزت کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کریں ۔ اس کے علاوہ صوبائی سطح کے مین سٹریم میڈیا یعنی اخبارات ، نیوز چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز کی مالی اور انتظامی مدد بھی صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں میں آتی ہے مگر بوجوہ اس سلسلے میں اس حکومت کی دلچسپی یا معاونت کو کسی طور پر بھی قابل تعریف قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ مین سٹریم میڈیا کو صوبے میں شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے اور اس کے باعث نہ صرف متعدد ادارے بند ہونے کو ہیں بلکہ کارکنوں کو معاشی مسائل اور بے روزگاری کی صورتحال سے بھی دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔
(29 مارچ 2025)