GHAG

خیبر پختونخوا: بدامنی، دہشت گردی اور عدم تحفظ کے سائے

اے وسیم خٹک

خیبر پختونخوا جو کبھی اپنی ثقافت، مہمان نوازی اور خوبصورتی کے لیے جانا جاتا تھا، اب ہر لمحہ دہشت گردی، بدامنی اور عدم تحفظ کے سائے میں لپٹا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہی خطہ ہے جہاں کبھی بازار رات گئے تک آباد رہتے تھے، قہوہ خانے اور چائے کے ہوٹل مقامی اور غیر مقامی افراد سے بھرے رہتے تھے، مگر اب وہ رش نہیں ہوتا جو پہلے پشاور اور دیگر شہروں کا خاصہ ہوا کرتا تھا اب اکثر علاقوں میں  سرِ شام ویرانی چھا جاتی ہے۔

پچھلے چند سالوں میں خیبر پختونخوا ایک بار پھر دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ پولیس اسٹیشنوں، سیکیورٹی چیک پوسٹوں، مساجد اور عوامی مقامات پر حملوں میں خوفناک اضافہ ہو چکا ہے۔ پہلے جو حملے کبھی کبھار ہوتے تھے، اب وہ روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ پولیس اہلکاروں، فوجی قافلوں، اور حتیٰ کہ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔جس میں اس دفعہ ڈی آئی خان، کرک، لکی مروت، ٹانک، بنوں سمیت دیگر اضلاع لپیٹ میں آچکے ہیں۔

شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافے کے باعث کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ کئی علاقے جو کبھی تجارتی مراکز تھے، اب سنسان نظر آتے ہیں۔ سرمایہ کار عدم تحفظ کی وجہ سے یہاں سرمایہ کاری سے کترانے لگے ہیں، جس کا براہ راست اثر مقامی معیشت پر پڑ رہا ہے۔

تعلیم بھی اس بدامنی کی نذر ہو چکی ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ والدین خوف کے باعث اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنے سے ہچکچانے لگے ہیں۔

مہنگائی اور بے روزگاری، جو پورے ملک کے مسائل ہیں، خیبر پختونخوا میں زیادہ سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔ افغانستان سے قربت کے باعث یہاں کے بازاروں پر بین الاقوامی حالات کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جبکہ صنعتوں کی بندش اور تجارتی سرگرمیوں میں کمی سے روزگار کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔

پہلے یہاں کے بازار اور کاروبار مقامی لوگوں کے کنٹرول میں تھے، مگر اب بیرونی عناصر نے ان پر قبضہ جما لیا ہے۔ جائیدادوں کی خریدو فروخت کے نام پر مقامی باشندوں کو بےدخل کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پرانے باشندے اپنی آبائی زمینوں سے محروم ہو رہے ہیں۔

قبائلی علاقوں اور دیگر اضلاع سے بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی نے بھی کئی شہروں کے وسائل پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں، غربت سے تنگ آئے مقامی افراد اپنی زمینیں بیچنے پر مجبور ہوئے، جنہیں بعد میں تجارتی مراکز میں بدل دیا گیا۔

حکمران آج بھی یہ دعوے کرتے نظر آتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا، مگر حقیقت یہ ہے کہ تاریخی مقامات پر قبضہ ہو چکا ہے، امن و امان کی صورتحال خراب ہو رہی ہے، اور لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اگر حالات یہی رہے تو شاید وہ دن دور نہیں جب یہ خطہ اپنی شناخت مکمل طور پر کھو دے۔ خیبر پختونخوا کے عوام کو ایک بار پھر وہی فیصلہ کرنا ہوگا جو انہوں نے 2009 میں سوات کے آپریشن کے وقت کیا تھا—یا تو دہشت گردی کو مکمل طور پر مسترد کریں، یا پھر ایک اور تاریک دور کا سامنا کریں۔

(29 مارچ 2025)

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts