پارٹی کے اندر گروپ بندی، اختلافات زوروں پر، مذاکرات پر پارٹی کئی دھڑوں میں تقسیم
علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر سیف کی نئی ذمہ داریاں، کارکنان کا بیرسٹر سیف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ
پشاور (غگ رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے ایک بار پھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف کو آئین اور قانون کے دائرے کے اندر اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک سونپ دیا جس کی تصدیق بیرسٹر سیف نے بھی کردی ہے۔
عمران خان، علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر سیف کے درمیان ملاقات کانفرنس روم میں تقریبا ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی جس کے بعد وہ اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گئے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق یہ ملاقات سابق وفاقی وزیر اعظم سواتی اور عمران خان کے درمیان منگل کو ہونے والی ملاقات کا تسلسل تھا۔
دوسری جانب پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی جس پر جیل حکام اور سلمان اکرم راجا کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔
منگل کے روز پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجا اور دیگر اڈیالہ جیل پہنچے اور سلمان اکرم نے حکام کو ان افراد کی فہرست فراہم کی، جنہیں عمران خان سے ملاقات کرنی تھی، تاہم سلمان اکرم راجا کوہی اندر جانے سے روک دیا گیا، جب کہ اعظم سواتی کو عمران خان سے ملنے کی اجازت دی گئی، جیل ذرائع نے دعویٰ کیا کہ عمران خان سلمان اکرم راجا سے ملنے کو تیار نہیں تھے۔
بیرسٹر سیف کا موقف
بیرسٹر سیف کے مطابق خان صاحب سمجھتے ہیں کہ ان کی جماعت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مسائل کی وجہ سے ملک اور پاکستان کے عوام مشکلات کا شکار ہیں، اور ان کی جماعت واحد وفاقی جماعت ہے، جس کی جڑیں تمام صوبوں میں ہیں اور ملک کو درپیش سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی مسائل کو حل کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے سابق وزیراعظم سے خیبرپختونخوا کی صورتحال، دہشت گردی اور پارٹی کے اندرونی معاملات سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا، اس طرح کچھ بھی نیا نہیں تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پارٹی چیئرمین نے وزیراعلیٰ کو ملک کی بھلائی کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دوبارہ منسلک ہونے کی اجازت دی۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان باہمی اعتماد کا فقدان ہے اور بامعنی مذاکرات کے لیے درجہ حرارت کو معقول سطح پر لانے کی ضرورت پر زور دیا۔
بیرون ملک یوٹیوبرز کا کردار
بیرسٹر سیف نے پارٹی کو بیرون ملک کچھ یوٹیوبرز سے دور رکھا، جو پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں، انہوں نے دلیل دی کہ ہمارا ان پر کوئی کنٹرول نہیں ہے، ہم نے ان سے کسی بھی تعلق سے انکار کر دیا ہے۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا پارٹی سربراہ نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دوبارہ بات چیت کے لیے کوئی شرائط رکھی ہیں؟ بیرسٹر سیف نے واضح کیا کہ کوئی بھی بات چیت آئین اور جمہوری اقدار کے دائرے میں رہ کر کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان کے ساتھ بات چیت کی ضرورت پر بھی زور دیا، اور وزیراعلیٰ نے انہیں اس سلسلے میں افغان طالبان تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت نے افغان طالبان کے ساتھ بات چیت کی اجازت کے لیے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا، لیکن وفاقی حکومت اس درخواست پر کوئ جواب نہیں دیا۔
پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر مستعفی، اعظم سواتی پر الزامات
سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر 9 مئی 2023 سے عوام کی نظروں سے دور تھے، اور انہوں نے پی ٹی آئی پنجاب چیپٹر کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
حماد اظہر نے ایکس پر ایک پیغام میں اپنے استعفے کا اعلان کیا، انہوں نے الزام عائد کیا کہ اعظم سواتی نے عمران خان سے شکایت کی تھی کہ وہ پارٹی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ کے کام میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’میں نے عالیہ حمزہ سے بات کی اور پوچھا کہ کیا وہ ان کی پارٹی کے کام میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں تو انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کبھی رکاوٹ محسوس نہیں ہوئی‘۔