GHAG

مارچ 2025 میں دہشت گردی کے 105 واقعات، 140 افراد شہید

شہداء میں 73 سیکیورٹی اہلکار، 67 عام شہری شامل، 88 دہشت گرد مارے گئے، رپورٹ

مارچ کے مہینے میں 258 افراد زخمی ہوئے جن میں 129 سیکیورٹی اہلکار، اتنے ہی عام شہری شامل

سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بھی تیزی، 83 دہشت گرد ہلاک

سب سے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں رپورٹ ہوئے، پی آئی سی ایس ایس کی رپورٹ

جنوری 2023 کے بعد گزشتہ ایک دہائی میں یہ ملک کی سیکیورٹی فورسز کے لیے دوسرا مہلک ترین مہینہ تھا، رپورٹ

پشاور(غگ رپورٹ) گذشتہ ماہ کے دوران خیبرپختونخو اور بلوچستان میں دہشت گردی کے 100 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جس میں کم از کم 73 سیکیورٹی اہلکار اور 67 عام شہری شہید کئے گئے جبکہ اس دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 88 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 میں دہشت گردی اور سیکیورٹی آپریشنز میں تیزی آئی، اور نومبر 2014 کے بعد پہلی بار دہشت گردوں کے حملوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی۔

رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے انسداد دہشت گردی کی کارروائیان بھی تیز کیں جس کے نتیجے میں 83 دہشت گرد ہلاک کئے گئے۔ اسی طرح 13 سیکیورٹی اہلکار اور 11 عام شہریوں سمیت 107 افراد شہید ہوئے، جبکہ 31 دیگر زخمی ہوئے۔

عسکریت پسندی کے ڈیٹا بیس (ایم ڈی) کے مطابق، مارچ 2025 میں اگست 2015 کے بعد سے مجموعی طور پر سب سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، جنوری 2023 کے بعد سے اسی مہینے میں سیکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد بھی دیکھی گئی، جب 114 اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

جنوری 2023 کے بعد گزشتہ ایک دہائی میں یہ ملک کی سیکیورٹی فورسز کے لیے دوسرا مہلک ترین مہینہ تھا۔

مارچ کے مہینے کے دوران خودکش حملوں میں اضافہ

مارچ کے مہینے میں 6 خودکش دھماکے ہوئے جو حالیہ برسوں میں ایک مہینے میں سب سے زیادہ ہیں، ان حملوں کے نتیجے میں 59 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 15 عام شہری، 11 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں، جبکہ 33 عسکریت پسند بھی جہنم واصل ہوئے، ان واقعات میں 94 افراد زخمی ہوئے جن میں 56 سیکیورٹی اہلکار اور 38 عام شہری شامل تھے۔

ان میں سے 3 خودکش حملے بلوچستان میں، 2 خیبر پختونخوا میں اور ایک ضم اضلاع میں ہوا ہے۔

گذشتہ ماہ کے دوران متاثرہ صوبوں میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا سب سے زیادہ رہے، سب سے قابل ذکر واقعات میں سے ایک 11 مارچ کو بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) بشیر زیب گروپ کی جانب سے جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم 26 یرغمالی شہید اور 33 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

(3 اپریل 2025)

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts