GHAG

جنگ کی شدت میں اضافہ ؟

عقیل یوسفزئی
خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں اور اضلاع میں گزشتہ چند روز کے دوران کالعدم شدت پسند گروپوں کے خلاف فورسز کی کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملتا آرہا ہے جبکہ متعدد علاقوں میں عوام نے بھی مقامی جرگوں کے ذریعے ریاست مخالف گروپوں کے خلاف مزاحمت کے اعلانات کردیے ہیں ۔ گزشتہ روز جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں فورسز نے ایک سے زائد آپریشن کرکے تقریباً 18 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جن میں متعدد وہ بھی شامل تھے جنہوں نے حکام کے مطابق ایک مسجد میں پناہ لے رکھی تھی ۔

تین نئے چیک پوائنٹس قائم کئے گئے تو بعض رکاوٹ زدہ سڑکوں کو بھی بحال کردیا گیا ۔ اگلے روز حکام اور مقامی عمائدین کے درمیان ایک جرگہ بھی منعقد ہوا جس میں علاقے کے امن کے لیے مشترکہ کوششوں پر اظہار اتفاق کیا گیا۔ بنوں میں بھی اسی دوران متعدد شدت پسند ہلاک کئے گئے ۔

دوسری جانب باجوڑ کے علاقے چارمنگ میں ایک مسجد میں ذخیرہ کردہ بارودی مواد کے پھٹنے سے وہاں پناہ لینے والے تقریباً 30 طالبان کی ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئیں ۔ طالبان نے اس واقعے پر ایک عجیب موقف اختیار کیا کہ یہ دھماکا فوج کے کسی ایجنٹ کے ذریعے کروایا گیا ہے ۔

باجوڑ کے بعض دیگر علاقوں میں بھی متعدد طالبان جنگجووں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اتوار کے روز اپر دیر کے علاقے سلام کوٹ میں سی ٹی ڈی اور شدت پسندوں کے درمیان کئی گھنٹوں پر محیط جھڑپوں میں پانچ دہشت گردوں کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا جبکہ ایک پولیس اہلکار شہید اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے ۔

اسی دوران باجوڑ کے 4 گاؤں کو کلئیر کئے گئے اور متاثرین کو ان کے گھروں میں جانے کی ہدایت کی گئی ۔ باجوڑ کے علاقے سالارزئی میں ایک قومی جرگے کا انعقاد کیا گیا جس میں طے پایا کہ علاقے کے امن کی بحالی کے لیے نہ صرف یہ کہ مسلح مقامی گشت شروع کی جائے گی بلکہ شدت پسند عناصر کے ساتھ تعاون کرنے ، ان کو پناہ دینے اور سہولت کاری کرنے والوں کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جائیں گے ۔ فیصلہ کیا گیا کہ اس نوعیت کی سہولت کاروں پر 50 لاکھ کا جرمانہ عائد کیا جائے گا اور ان کے گھر مسمار کئے جائیں گے ۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے ایک بار پھر خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان میں سرگرم عمل دہشت گرد گروپ پڑوسیوں اور دنیا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اس لیے افغان عبوری حکومت ان کو لگام دے ۔

اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امارات اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے اس الزام یا خدشے میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور یہ کہ افغانستان میں ایسے گروپ موجود نہیں ہیں جو کہ پڑوسیوں یا دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہو تاہم اسی دوران ایک اہم امریکی عہدیدار نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں انکشاف کیا کہ افغان طالبان امریکہ کے ساتھ بھرپور تعاون کررہے ہیں اور یہ کہ ان پر ” ڈالروں کی بارش” ہورہی ہے ۔

ماہرین کا اس تمام صورتحال پر کہنا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف سفارتی سطح پر دہشت گردی کے خلاف لابنگ میں اضافہ کردیا ہے بلکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں فورسز کی کارروائیوں میں مزید اضافہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ ان کے مطابق شورش زدہ علاقوں خصوصاً قبائلی اضلاع میں عمائدین اور عوام کو انگیج کرنے کی پالیسی کے بھی مثبت نتائج متوقع ہیں ۔

(اگست 25، 2025)

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts