اے وسیم خٹک
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اس وقت دو بڑے بحرانوں کی زد میں ہیں۔ ایک طرف سرحد پار سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بڑھتے ہوئے حملے اور ان کے مبینہ ٹھکانوں پر پاکستانی کارروائیاں ہیں، تو دوسری جانب لاکھوں افغان مہاجرین کی واپسی ہے جو ایک بڑے انسانی المیے کو جنم دے رہی ہے۔ یہ دونوں مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور انہی کے گرد پاک افغان تعلقات کی موجودہ صورتحال گھوم رہی ہے۔
پاکستانی سکیورٹی فورسز نے حالیہ ہفتوں میں افغان سرحد کے قریب کارروائیاں کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے مبینہ مراکز کو نشانہ بنایا۔ کابل نے ان کارروائیوں کو “علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس میں عام شہری بھی مارے گئے۔ اسلام آباد کا موقف ہے کہ شدت پسندی کی جڑیں افغانستان میں موجود پناہ گاہوں سے جڑی ہیں اور یہ حملے دفاعی نوعیت کے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر عسکری کارروائی دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو مزید نقصان پہنچاتی ہے۔
اسی دوران افغان مہاجرین کی واپسی کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ پاکستان نے غیر قانونی غیر ملکیوں کے خلاف مہم کے تحت اب تک سات لاکھ سے زائد افغانوں کو وطن واپس بھیج دیا ہے۔ ان میں بہت سے وہ خاندان بھی شامل ہیں جو دہائیوں سے پاکستان میں مقیم تھے یا یہیں پیدا ہوئے تھے۔ ان مہاجرین کو افغانستان میں بے روزگاری، رہائش کی کمی، غربت اور تعلیمی اداروں تک رسائی نہ ہونے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ واپسی ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب افغانستان پہلے ہی دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک سے گزر رہا ہے۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج شدت پسندی ہے۔ ٹی ٹی پی کے حملوں میں پچھلے دو برسوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف 2024 میں اس گروپ نے 1,700 سے زیادہ حملوں کا دعویٰ کیا، جن میں ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ 2025 کے ابتدائی مہینوں میں بھی حملوں کا سلسلہ جاری رہا، جس نے ملک کی داخلی سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کیے۔ اسلام آباد مسلسل کابل پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام ہے۔ لیکن یکطرفہ کارروائیاں شہری آبادی کو متاثر کرتی ہیں اور دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید کشیدہ بناتی ہیں۔ اعتماد کی کمی بڑھنے سے شدت پسندی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
پاکستان نے مہاجرین کی واپسی کا سلسلہ ستمبر 2023 میں شروع کیا۔ صرف ایک سال کے عرصے میں تقریباً آٹھ لاکھ افغان پاکستان سے واپس گئے، جو کسی بھی ملک سے مہاجرین کی سب سے بڑی واپسی تھی۔ عالمی ادارہ مہاجرت کے مطابق ان میں سے اکثریت غیر قانونی طور پر مقیم تھی، لیکن ایک بڑی تعداد کے پاس اقوام متحدہ کے مہاجر کارڈز یا افغان سٹیزن کارڈ بھی موجود تھے۔ واپسی کرنے والے مہاجرین نے بنیادی وجوہات میں گرفتاری کے خوف، بے روزگاری، کرایہ ادا نہ کر پانے اور گھریلو اخراجات کا ذکر کیا۔ تاہم ان میں سے بیشتر نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں اپنے خاندانوں کے ساتھ دوبارہ رہنے کی خواہش انہیں واپس لے گئی۔ اس سب کے باوجود، افغانستان میں موجودہ حالات کسی بھی طرح مہاجرین کے لیے سازگار نہیں۔ ملک شدید معاشی بحران، بیروزگاری اور انسانی امداد کی کمی سے دوچار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اگر فوری امداد نہ ملی تو لاکھوں افراد غربت اور بھوک کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔
یہ کشیدگی محض سرحدی تنازعہ یا مہاجرین کے مسئلے تک محدود نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں عالمی سیاست بھی کارفرما ہے۔ بھارت نے افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جس پر پاکستان کو تشویش ہے۔ اسلام آباد نے حالیہ مہینوں میں کابل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے کا اعلان کیا تاکہ بھارت کے اثرات کو محدود کیا جا سکے۔ چین بھی اس کھیل میں ایک اہم کھلاڑی ہے۔ مئی 2025 میں بیجنگ میں سہ فریقی اجلاس ہوا جس میں پاکستان، افغانستان اور چین نے سی پیک کو افغانستان تک وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر اعتماد قائم ہو جائے تو بڑے معاشی منصوبے خطے کے استحکام میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ دونوں ممالک یکطرفہ اقدامات کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔ شدت پسندی کے خلاف کارروائی ضروری ہے لیکن یہ اس انداز میں ہونی چاہیے کہ شہری متاثر نہ ہوں۔ اسی طرح مہاجرین کے مسئلے کو بھی انسانی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ لوگوں کو بے گھر کرنے کے بجائے ان کے لیے محفوظ اور پائیدار متبادل فراہم کیا جا سکے۔ عالمی برادری کا کردار اس مرحلے پر نہایت اہم ہے۔ اگر عالمی طاقتیں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں مدد کریں اور افغانستان کو معاشی امداد فراہم کریں تو صورتحال کو سنبھالا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہ بحران مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔
آخرکار جنگ اور تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب اسلام آباد اور کابل اعتماد قائم کریں، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنائیں، مہاجرین کے لیے انسانی بنیادوں پر حل تلاش کریں اور عالمی برادری اس سفر میں ان کی مدد کرے کیونکہ خطے کا مستقبل محاذ آرائی اور دشمنی میں نہیں بلکہ امن اور تعاون میں ہے۔