عقیل یوسفزئی
پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے ماہ مارچ کے 20 دنوں کے دوران خیبرپختونخوا کے 11 اضلاع میں ریکارڈ 35 انٹلیجنس بیسڈ آپریشنز کرتے ہوئے 80 سے زائد مطلوب دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جبکہ متعدد حملوں کو ناکام بنادیا۔ گزشتہ روز فورسز نے ڈی آئی خان میں کارروائی کرتے ہوئے 10 خوارج کو ہلاک کردیا۔ آپریشن میں جہلم سے تعلق رکھنے والے کیپٹن حسنین اختر شہید ہوئے جبکہ مختلف علاقوں میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں کو ناکام بنادیا گیا۔
دستیاب معلومات اور چند روز قبل جاری کی گئی ایک سیکورٹی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے 3 مارچ سے لیکر 20 مارچ تک خیبر پختونخوا کے تقریباً 13 اضلاع میں انٹلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جس کے نتیجے میں 80 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا جن میں 3 افغان دہشت گرد بھی شامل ہیں۔
سیکورٹی رپورٹ کے مطابق فورسز نے خیبرپختونخوا میں 3 مارچ سے لیکر 16 مارچ تک کے عرصے کے دوران 32 آپریشن کئے جن میں 69 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ بڑی مقدار میں اسلحہ اور بارودی مواد بھی قبضے میں لیا گیا تاہم 16 مارچ کے بعد بھی تین چار کارروائیاں کرتے ہوئے تقریباً 13 مزید دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا۔
16 مارچ تک صوبہ خیبرپختونخوا کے 9 مختلف اضلاع میں آپریشن کیے گئے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اس عرصے میں کی گئی کارروائیوں کے دوران بنوں میں 16، جنوبی وزیرستان میں 12 ، شمالی وزیرستان میں 8 ، مہمند میں 12 ، باجوڑ میں 6 ، ڈی آئی خان میں 7 ، ٹانک میں 2 ، کرک میں 1 اور لکی مروت میں 6 دہشت گرد ہلاک کردیے گئے ہیں۔
دوسری جانب لکی مروت ، وزیرستان ، خیبر ، کرک ، بنوں اور کرم میں پولیس پر ہونے والے حملوں کے دوران عوام بھی حملہ آوروں کے خلاف نکل آئے اور اس کے نتیجے میں نہ صرف پولیس اور دیگر سرکاری ملازمین کو بچانے کی کامیاب کوششیں کی گئیں بلکہ متعدد حملے بھی ناکام بنائے گئے۔
(21 مارچ 2025)