GHAG

محمد صادق خان کا افغان حکومت کی خواہش پر کابل کا دورہ

دورے کے دوران صادق خان اہم حکومتی شخصیات اور حکام سے ملاقاتیں کریں گے، ذرائع

افغان مہاجرین کی واپسی، سرحدی کشیدگی پر خصوصی تبادلہ خیال متوقع ہے، ذرائع کا دعویٰ

پشاور (غگ خصوصی رپورٹ) افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق خان افغان عبوری حکومت سے اہم ملاقاتیں کرنے کابل پہنچ گئے ہیں جہاں وہ افغان حکام کے ساتھ مختلف اختلافی امور اور معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے اور ماہرین اس دورے کو غیر معمولی قرار دے رہے ہیں۔

سفارتی اور صحافتی ذرائع کے مطابق محمد صادق خان افغان عبوری حکومت کے اہم ذمہ داران اور حکام کی رابطے کاری کے نتیجے میں کابل کا دورہ کررہے ہیں اور ان کا یہ دورہ تین روز پر مشتمل ہے جس کے دوران وہ اہم حکومتی قائدین اور وزراء کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے اور بعض اہم وزارتوں کے حکام سے بھی ملاقاتیں کی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق ان کے دورہ کابل کے دوران جن اہم امور پر تبادلہ خیال متوقع ہیں ان میں پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کا اعلان اور یکم اپریل سے اس پر عملدرآمد کا معاملہ سرفہرست ہیں جبکہ طورخم بارڈر پر ایک چیک پوسٹ پر دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی پر تبادلہ خیال بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔ اگر چہ افغان حکومت نے دو طرفہ کشیدگی کے باوجود پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کے فیصلے پر نظر ثانی کی باضابطہ درخواست کی ہے تاہم پاکستان اپنے فیصلے پر قائم ہے اور یکم اپریل سے مہاجرین کی واپسی کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے مختلف ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ دوسری جانب طورخم بارڈر پر آمدورفت کا سلسلہ جاری ہے مگر گزشتہ روز سے  ایک بار پھر اس قسم کی اطلاعات ملتی رہی ہیں کہ افغانستان کے سرکاری حکام نے ایک بار پھر متنازعہ چیک پوسٹ قائم کرنے کی کوشش کی جس پر پھر سے تلخی پیدا ہوگئی تاہم بعض جرگہ ممبران کی مداخلت اور رابطہ کاری کے باعث کشیدگی کی نوبت نہیں آنی دی گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کراس بارڈر ٹیررازم اور افغان مہاجرین کی واپسی جیسے اہم معاملات کے علاوہ صادق خان کے دورہ کابل کے دوران طورخم بارڈر کی مذکورہ کشیدگی اور حد بندی کا معاملہ بھی زیر بحث لایا جائے گا۔ دوسری جانب ایک معتبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان کے حکام اس بات پر بھی صادق خان اور ان کی ٹیم سے مشاورت کریں گے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کا جو اعلان کر رکھا ہے اس کا “ڈپلومیٹک اسٹیٹس” کیا ہے۔ ان تمام حالات اور واقعات کے تناظر میں اس دورے کو غیر معمولی اہمیت دی جارہی ہے۔

(22 مارچ 2025)

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts