GHAG

بلوچستان: امن کی جنگ اور ترقی کی امید

بلوچستان: امن کی جنگ اور ترقی کی امید

فہمیدہ یوسفی

بلوچستان، پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ، معدنی اور قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے۔ کوئلہ، تانبہ، سونا، گیس اور دیگر معدنیات کی فراوانی ہو یا گوادر جیسی جدید بندرگاہ — بلوچستان کی زمین میں پاکستان کی معیشت کو نئی زندگی دینے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ لیکن افسوس کہ یہ صوبہ کئی دہائیوں سے بدامنی، دہشت گردی اور سیاسی عدم استحکام کی لپیٹ میں ہے، جو اس کے روشن امکانات پر سایہ ڈالے ہوئے ہے۔

بلوچستان کی وزارتِ داخلہ کی حالیہ رپورٹ اس چبھتی حقیقت کو پھر سے بے نقاب کرتی ہے۔ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں دہشت گردی کے 501 واقعات نے نہ صرف 257 خاندانوں کو اُجاڑا بلکہ لگ بھگ 500 افراد کو زخمی کر کے ہزاروں خاندانوں کو خوف و بے یقینی کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ دہشت گردوں کی جانب سے آباد کاروں، خصوصاً پنجاب اور دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے مزدوروں اور تاجروں کو شناخت کے بعد نشانہ بنانا، ایک سوچے سمجھے منصوبے کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد صوبے کے سماجی تانے بانے کو کمزور کرنا اور قومیتوں کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے۔

یہ اعداد و شمار محض کسی سرکاری فائل میں بند اعداد نہیں۔ یہ زندہ حقیقت ہے کہ بلوچستان میں بے گناہ مزدوروں، مسافروں اور عام شہریوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کیا جا رہا ہے۔ کیا یہ سوال نہیں اُٹھتا کہ ایک طرف حکومت بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کی نوید سنا رہی ہے اور دوسری طرف ان منصوبوں کو چلانے والے مزدور، انجینئر اور تاجر اپنی جان بچانے کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں؟

بلوچستان کی ترقی کے راستے میں دہشت گردی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ گوادر پورٹ سے لے کر سی پیک کے تحت سڑکوں اور پلوں کے جال تک، سب کچھ اسی صورت میں کارگر ہوگا جب مقامی سطح پر امن و امان کی ضمانت ہو۔ جب بلوچستان کے بازاروں میں گاہک بے خوف خریداری کریں گے، جب غیر مقامی مزدور سکون سے محنت کر سکیں گے، جب صنعت کار سرمایہ کاری کرنے میں خوف محسوس نہیں کریں گے — تب ہی بلوچستان حقیقی معنوں میں ترقی کے سفر پر گامزن ہوگا۔

یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ان تخریبی سرگرمیوں کے تانے بانے بھارت جیسے دشمن ملک سے ملتے ہیں۔ کلبھوشن یادیو جیسے کرداروں کی گرفتاری اور ان کے اعترافی بیانات اس کی گواہی ہیں۔ دشمن کی حکمت عملی واضح ہے — بلوچستان میں فرقہ واریت اور قومیت کی بنیاد پر خون خرابہ کروا کر پاکستان کی معاشی شہ رگ کو کمزور کیا جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف اس حقیقت کو دہرا کر مطمئن ہو جائیں؟ کیا یہ کافی ہے کہ صرف دفاعی محاذ پر دشمن کی سازشوں کا جواب دیا جائے؟ ہرگز نہیں!

اس بدامنی کے خلاف سب سے بڑی دیوار عوامی اتحاد، سیاسی ہم آہنگی اور مقامی قیادت کا فعال کردار ہے۔ بلوچ نوجوانوں کو شدت پسند گروہوں کے ہاتھوں میں کھیلنے سے روکنے کے لیے تعلیم، روزگار اور باعزت روزی کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ حکومتِ بلوچستان کو اپنے حصے کا کردار مزید ذمہ داری کے ساتھ ادا کرنا ہوگا۔ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کو صرف افتتاحی پتیاں کاٹنے تک محدود نہ رکھے بلکہ ان منصوبوں سے مقامی لوگوں کو حقیقی فائدہ پہنچائے۔ اس سے نہ صرف شدت پسند بیانیہ کمزور ہوگا بلکہ لوگوں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔

ایک اور پہلو جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وہ یہ ہے کہ امن و امان کو بہتر بنانے کی ذمے داری محض فورسز تک محدود نہ رکھی جائے۔ پولیس، لیویز، مقامی عمائدین، قبائلی عمائدین اور منتخب نمائندے — سب کو ساتھ لے کر ایک مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے۔ آباد کاروں پر حملے، سڑکوں پر ناکہ بندی، بین الاضلاعی شاہراہوں پر اغوا برائے تاوان جیسے جرائم کی روک تھام کیلئے کڑے قوانین پر عمل درآمد اور سخت نگرانی لازم ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ آج کا بلوچستان ایک نہایت اہم اسٹریٹجک پوزیشن پر کھڑا ہے۔ سی پیک کے منصوبے خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر ہم نے اس موقع کو بدامنی کی نذر ہونے دیا تو نہ صرف بلوچستان کی محرومیاں برقرار رہیں گی بلکہ پورا ملک اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ بلوچستان کی ترقی میں پورے پاکستان کی خوشحالی پنہاں ہے۔ لہٰذا دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی صرف کاغذوں تک محدود نہ رہے، اسے ہر سطح پر عملی جامہ پہنانا ہو گا۔

بلوچستان کے امن کی بحالی صرف حکومت یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمے داری نہیں — یہ ایک اجتماعی قومی فریضہ ہے۔ سیاسی قیادت، میڈیا، سول سوسائٹی اور سب سے بڑھ کر عوام — سب کو یہ شعور دینا ہوگا کہ دشمن کی سازشیں نفرت اور تعصب کو ہوا دے کر ہمیں تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔ اگر ہم نے اس نفرت کو شکست دے دی، تو بلوچستان کا مستقبل بھی روشن ہے اور پاکستان کی بنیادیں بھی مزید مضبوط ہوں گی۔

یہ وہ وقت ہے جب قومی اتحاد اور مقامی قیادت کی فعال موجودگی سے اس عظیم خطے کو امن و ترقی کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔ اگر آج ہم نے سنجیدگی نہ دکھائی، تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts