GHAG

برآمدات کے فروغ کے لئے اقدامات

برآمدات کے فروغ کے لئے اقدامات

ضیاء الحق سرحدی

پاکستان کو آزاد ہوئے 78سال ہوگئے ہیں اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایسے خطے سے نوازا جو قدرتی وسائل میں خود کفیل ہے۔کسی بھی ملک کی معاشی واقتصادی ترقی میں دیگر شعبوں کے علاوہ برآمدات کا شعبہ بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے برآمدات سے جہاں معاشی سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں یہ وہیں زرمبادلہ میں اضافہ کا باعث بھی بنتی ہیں۔بر آمدات کا شعبہ خصوصی توجہ کا حامل ہے حکومت کو برآمدات کے فروغ کے لئے مزید سہولتیں اور مراعات بھی دینی چاہئیں تاکہ برآمدات کنندگان کا اس طرف رجحان بڑھے۔

اس مقصد کے لئے بیرونی دنیا میں پاکستانی مصنوعات کی کھپت کے لئے منڈیاں بھی تلاش کرنی چاہئیںجس سے ایک طرف ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا جبکہ معاشی واقتصادی سرگرمیاں بڑھنے کے باعث لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے جو ملک کی ترقی وخوشحالی کا باعث ہوگا۔لہٰذا برآمدات کے فروغ سے لے کر ہر شعبہ کی ترقی کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے،حکومت کو برآمدات کے فروغ اور تجارتی سرگرمیاں بڑھانے کے لئے بھر پور کوششیں کرنا ہوں گی اور اس مقصد کے لئے دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں کو متحرک کرکے ان کی یہ ڈیوٹی لگائے کہ پاکستانی مصنوعات کی کھپت کے لئے راہ ہموار کریں۔وزارت تجارت نے کمرشل اتاشیوں کو پاکستانی مصنوعات کیلئے غیر ملکی منڈیوں کی تلاش اور پہلے سے موجود منڈیوں تک مصنوعات کی رسائی کا ٹاسک دیاہوا ہے لیکن اس عمل کی مانیٹرنگ نہ ہونے کی وجہ سے کمرشل قونصلرز اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے ہیں۔

بیرون ممالک تعینات کمرشل قونصلرز کو خصوصی ٹاسک سونپے جائیں اور انہیں واضح ہدایات دی جائیں کہ وہ پاکستانی مصنوعات کے فروغ کیلئے بھرپور انداز میں کام کریں اور ان کی پروموشن کو کارکردگی سے مشروط کیا جائے اور جو کمرشل قونصلر ایکسپورٹ کے فروغ کے حوالے سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے تو اسے عہدے سے فوری طور پر ہٹا دینا چاہئے۔اور اس وقت اگر اپنے ہمسایہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں ہماری برآمدات کم ہیں تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ہر دو ممالک کے مقابلے میں ہماری اشیاء مہنگی ہیں جس کی وجہ سے بیرونی منڈیوں میں ان کی کھپت بہت ہی کم ہے اس حوالے سے سامنے آنے والی بعض رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش برآمدات کے حوالے سے بھارت سے بھی سبقت لے جا چکا ہے مگر ہمارے ہاں بجلی کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے کی وجہ سے مسابقت کی دوڑ میں کہیں پیچھے ہے اس کا واحدحل ملک میں بجلی کے نرخوں میں کمی لا کر اس صورتحال پر قابو پایا جا سکتا ہے بدقسمتی سے اس وقت ہر جانب آئی پی پیز کے چنگل سے چھٹکارا پانے کی عوامی آوازوں پر کوئی توجہ نہ دینا بھی اہم وجہ ہے، جو معلومات سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں کئی آئی پی پیزمقررہ کپیسٹی کے مطابق کہیں کم بجلی پیدا کرنے کے با وجود اربوں روپے معاہدے کے مطابق وصول کر رہے ہیں جبکہ بعض آئی پی پیزا ایک یونٹ بجلی پیدا نہ کرنے کے باوجود پوری قیمت (اربوں) وصول کر کے قومی خزانے پر بوجھ اور عوام کے لئے عذاب کی صورت اختیار کر چکے ہیں، عوامی مطالبات کے باوجود وزیر توانائی اور دیگر متعلقہ حکام’ ‘ان ظالمانہ” معاہدوں سے جان چھڑانے کے لئے اقدامات کرنے کے الٹا ان کی وکالت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کسی بھی ملک کی معاشی و اقتصادی ترقی میں دیگر شعبوں کے علاوہ برآمدات کا شعبہ بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

برآمدات سے جہاں معاشی سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں وہیں یہ زرمبادلہ میں اضافے کا باعث بھی بنتی ہیں لیکن بدقسمتی سے برآمدات کے حجم میں اضافے کبھی کوئی طویل المدتی پالیسی تشکیل دینے پر توجہ مرکوز نہیں کی گئی جس کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھتا جارہا ہے۔ حکومت برآمدات بڑھانے جو اقدامات کر رہی ہے ان کے اثرات کم نظر آرہے ہیں۔ عالمی معیشت میں ایک قسم کا جنگی ماحول پیدا ہو چکا ہے بہت سے ممالک جدید ٹیکنالوجی، سبسڈیز، تجارتی معاہدوں اور اعلیٰ معیاری اور تیز تر ترسیل کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر تجارتی جنگ جیتنے کی تگ و دو کر رہے ہیں ایسے میں پاکستانی برآمدات میں محض 6.25 فی صد کا اضافہ حقیقی آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ایسے حالات میں جب ملک کا صنعتی اور برآمدی شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ مہنگی بجلی اور دیگر مسائل کی وجہ سے صنعت کار صنعتیں بند کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ حکومت کا کسی ٹھوس برآمدی پالیسی کے بغیر آئندہ پانچ برس میں ملکی برآمدات کا حجم 60 ارب ڈالر سالانہ تک لے جانے کی باتیں زبانی جمع خرچ سے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں۔

ملک کی معاشی مضبوطی برآمدات میں اضافے سے مشروط ہے مگر یہ اضافہ تبھی ممکن ہے جب ملک میں صنعتی پیداوار کی رفتار تیز ہو۔ حکومت اگر واقعی ملکی برآمدات میں اضافے کی خواہاں ہے تو اسے سب سے پہلے ستی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہئے تا کہ ملک کا برآمدی شعبہ عالمی منڈی میں مسابقت پیدا کر سکے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو 50 کھرب ڈالر کے معدنی ذخائر عطا کئے ہیں لیکن ہم بدقسمتی سے ان معدنی وسائل سے فائدہ نہیں اٹھا سکے اور دنیا کے سامنے کشکول لئے پھر رہے ہیں۔ ملک کی درآمدات اور برآمدات کے درمیان توازن پیدا کر کے ہی معیشت کو مستحکم کیا جاسکتا ہے، یہ کوئی ایک دن کا کام نہیں بلکہ اس کے لئے شارٹ ٹرم کے ساتھ ساتھ لانگ ٹرم منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملکی برآمدات کو بڑھانے عملی اقدامات کئے جائیں تا کہ مایوسیوں کے اندھیرے میں اُمید کے چراغ روشن ہوں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts