اے وسیم خٹک
ہمارے ایک دوست ہیں، جن کی زندگی کا ایک بڑا حصہ تحریک انصاف کے رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ 2010 سے لے کر اب 2025 تک، پندرہ سال کا عرصہ انہوں نے اس پارٹی کے لیے وقف کر دیا۔ اگر وقت کا حساب لگائیں تو یہ پندرہ سال بنتے ہیں 180 مہینے، 5479 دن، 131,496 گھنٹے، 7,889,760 منٹ، اور 473,385,600 سیکنڈ۔ اگر مالی حساب لگائیں تو فی دن دس روپے کے حساب سے 54,790 روپے، اور فی مہینہ دس ہزار روپے کے حساب سے اٹھارہ لاکھ روپے بنتے ہیں۔ یہ اعدادوشمار صرف وقت اور پیسوں کی بات کرتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے ایک ایسی کہانی ہے جو شاید ہر اس ورکر کی ہے جو سیاسی جدوجہد میں اپنا سب کچھ لگا دیتا ہے، مگر بدلے میں اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
ہمارا یہ دوست ہر ریلی، ہر جلسے، ہر احتجاج، اور ہر اجلاس میں موجود رہا۔ جب بھی پارٹی کی طرف سے کال آئی، وہ سب سے آگے کھڑا تھا۔ مگر جب بات صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی، ضلعی ناظم یا تحصیل ناظم کے ٹکٹ کی آتی، تو اس کا نام کہیں نظر نہیں آتا۔ پھر بھی، وہ پیچھے نہیں ہٹتا۔ شاید اب یہ اس کی انا اور غیرت کا سوال بن چکا ہے۔ پندرہ سال کی جدوجہد کے بعد، وہ کسی نظریے یا عمران خان کے افکار سے زیادہ اپنی عزت نفس کے لیے لڑ رہا ہے۔ وہ جونیئرز کی اطاعت کرتا ہے، جنہیں اس سے کم محنت کے باوجود مواقع ملے۔ وہ پولیس سے چھپتا پھرتا ہے، اور پارٹی کی وجہ سے اپنے علاقے میں لوگوں سے تعلقات بھی خراب کر چکا ہے۔
یہ کہانی صرف ہمارے دوست کی نہیں، بلکہ پورے پاکستان میں لاکھوں ورکرز کی ہے۔ یہ ورکرز سیاسی پارٹیوں کے لیے ٹشو پیپر کی طرح ہیں۔ جلسوں میں بھیڑ جمع کرنے کے لیے، احتجاج میں نعرے لگانے کے لیے، اور مشکل وقت میں ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر جب بات انعامات، عہدوں، یا شناخت کی آتی ہے، تو انہیں ایک طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔ ہم نے خود دیکھا ہے کہ جلسوں میں ورکرز کو بلایا جاتا ہے، ان سے کام لیا جاتا ہے، اور کبھی کبھار تو ذلیل بھی کیا جاتا ہے۔ یہ صرف تحریک انصاف کا معاملہ نہیں، بلکہ پاکستانی سیاست کا ایک عمومی دستور ہے۔ ہر پارٹی میں یہ سلسلہ چلتا ہے، جہاں ورکرز کی محنت کو سراہا نہیں جاتا، بلکہ اسے ایک فرض سمجھ لیا جاتا ہے۔
ہمارے ایک اور دوست ہیں، جو اکثر طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ تحریک انصاف “تیارے کے انصاف” کی پارٹی ہے۔ یعنی جہاں اندھیرا ہی اندھیرا ہو، وہاں روشنی کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟ یہ بات کچھ حد تک سچ بھی لگتی ہے۔ ورکرز ایک ایسی امید پر پارٹی سے جڑے رہتے ہیں جو شاید کبھی پوری نہ ہو۔ پھر بھی، وہ وفادار رہتے ہیں۔ شاید یہ جذباتی وابستگی ہے، یا شاید وہ اب پیچھے ہٹنے سے ڈرتے ہیں کہ اتنی محنت کے بعد خالی ہاتھ رہنا ان کی ہار لگتی ہے۔
تحریک انصاف کی احتجاجی حکمت عملی بھی ایک الگ کہانی ہے۔ 5 اگست کو کشمیر کے استحصال کے دن کو چنا گیا، اب 14 اگست کو آزادی کے دن کے موقع پر احتجاج کی کال دی گئی ہے۔ اس سے پہلے جب کوئی بڑی شخصیت پاکستان آتی ہے، یا کوئی بڑا موقع ہاتا ہے، تو احتجاج کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ یہ حکمت عملی میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے تو ہو سکتی ہے، مگر اس کے نتائج کیا ہیں؟ بار بار کی کالز، احتجاج، اور نعرے بازی کے باوجود کوئی ٹھوس نتیجہ نظر نہیں آتا۔ ورکرز کی محنت ضائع ہوتی ہے، اور وہ مایوسی کے باوجود دوبارہ سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ تحریک انصاف مکمل طور پر عمران خان کی شخصیت پر مبنی ہے۔ پارٹی میں عمران خان کے علاوہ کوئی دوسرا لیڈر نظر نہیں آتا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ پارٹی کسی اور کو لیڈر کے طور پر قبول ہی نہیں کرتی۔ یہ ایک کمزوری ہے، جو نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ پاکستان کی دیگر سیاسی پارٹیوں میں بھی نظر آتی ہے۔ جب ایک پارٹی صرف ایک شخص کے گرد گھومتی ہے، تو نچلی سطح کے کارکنوں کے لیے ترقی کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً، ورکرز کی محنت اور وفاداری کا صلہ صرف مایوسی کی صورت میں ملتا ہے۔
ہمارے دوست کی کہانی ایک آئینہ ہے، جو پاکستانی سیاست کے اس تلخ حقیقت کو دکھاتی ہے۔ پندرہ سال، لاکھوں منٹ، اور لاکھوں روپوں کی قربانی کے بعد بھی اس کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ پھر بھی، وہ لگا ہوا ہے، شاید اس امید پر کہ ایک دن اس کی محنت رنگ لائے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ امید واقعی پوری ہوگی؟ یا یہ صرف ایک دھوکا ہے جو ورکرز کو سڑکوں پر لاتا رہتا ہے؟ پاکستانی سیاست کو اگر بدلنا ہے، تو اسے اپنے ورکرز کی قدر کرنی ہوگی۔ انہیں عزت، مواقع، اور شناخت دینے ہوں گے۔ ورنہ، یہ کہانیاں یونہی دہرائی جاتی رہیں گی، اور ورکرز یونہی ٹشو پیپر بنے رہیں گے۔