بیرسٹر ڈاکٹر عثمان علی
پاکستان کی سیاسی تاریخ کی بنیادی خرابی بدعنوانی یا صرف کمزور ادارے نہیں، بلکہ وہ مسلسل روایت ہے جس میں طاقت کے نشے میں قانون کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔ اقتدار ملتے ہی ریاستی ادارے انصاف کے بجائے مخالفین کو قابو میں رکھنے کے ہتھیار بن جاتے ہیں؛ اور جب اقتدار چھن جائے، تو یہی ادارے ظلم و جبر کی علامت دکھائی دیتے ہیں۔ جب کوئی جماعت حکومت میں ہو اور ہر حربہ استعمال کر کے سیاسی مخالفین کو سزا دلوانے کی کوشش کرے تو اسے آئین و قانون کی حکمرانی اور “ملک و قوم کے لیے خوش آئند” قرار دیتی ہے؛ لیکن جب یہی ہتھکنڈے اس کے خلاف استعمال ہوں، تو یہ سب کچھ “عدلیہ پر سوالیہ نشان” اور آئین و قانون کا قتل بن جاتا ہے۔
یہی چکر ہے جس میں ہمارا سیاسی بیانیہ دہائیوں سے الجھا ہوا ہے: آج کا مظلوم کل کا حکمران، اور آج کا حکمران کل کا اسیر بن جاتا ہے۔
قیامِ پاکستان کے فوراً بعد سیاسی مخالفین کو نااہل کرنے اور دبانے کی غرض سے ایسے قوانین متعارف کرائے گئے جنہوں نے معمول کی عدالتوں اور شفاف سماعتوں کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ مارشل لا کے ادوار میں حکم ناموں کے ذریعے سینکڑوں رہنما طویل عرصے تک انتخابی عمل سے باہر رکھے گئے، اور یوں ایک کنٹرول شدہ سیاسی منظرنامہ تشکیل پایا۔ بعدازاں منتخب ادوار میں بھی جب تنازعہ شدت اختیار کرتا، تو مقدمات عام عدالتوں سے ہٹا کر خصوصی ٹریبونلز کے سپرد کیے جاتے۔ قومی سلامتی کے نام پر اختیارات کا دائرہ وسیع ہوتا گیا جبکہ شفافیت پس پشت چلی گئی۔ نتیجتاً، ہر دور میں “احتساب” کا رخ زیادہ تر مخالفین کی جانب رہا اور یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ احتساب دراصل سیاسی انتقام کا دوسرا نام ہے۔
فوجی حکمرانی کے ادوار میں “احتساب” کھلے سیاسی جبر میں تبدیل ہوا: آئین معطل ہوا، صحافت کو دباؤ کا سامنا ہوا، مخالفین کو گرفتار کیا گیا، ان پر شدید تشدد ہوا، کوڑے مارے گئے، اور پھانسی تک دے دی گئی۔ جبکہ عدالتیں مصلحتوں کا شکار نظر آئیں۔ جمہوریت کی واپسی سے امید بندھی کہ شاید یہ سلسلہ رُکے گا، مگر نوّے کی دہائی میں حکومتیں ایک دوسرے پر مقدمات بناتی رہیں، “چور” اور “غدار” کے نعروں سے ووٹ مانگے گئے، اور ریاستی ادارے اس کشمکش کا حصہ بن گئے۔
بعد کے برسوں میں احتسابی بیورو اور پھر قومی احتساب کے ادارے کو تفتیش، حراست، اور استغاثہ، تینوں کے اختیارات دے دیے گئے، جس سے سیاسی اثراندازی کی گنجائش اور بڑھ گئی: وفاداریاں تبدیل کرانا، من پسند مقدمات بند کرنا، اور مخالفین کو طویل قبل از ٹرائل حراست میں رکھنا معمول بن گیا۔ مفاہمتی حکم ناموں نے واضح کیا کہ مقدمات سیاسی سودے بازی کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں؛ اور جب وہ حکم نامے کالعدم ہوئے تب بھی بنیادی ڈھانچہ تبدیل نہ ہو سکا۔
گزشتہ برسوں میں “عدالتی احتساب” کی نئی شکل سامنے آئی: مشترکہ تحقیقاتی ڈھانچے، سخت آئینی شقوں کی ایسی تشریحات جو سیاسی توازن بدل دیں، اور گرفتاریاں و مقدمات جنہیں ایک فریق انصاف کی فتح اور دوسرا سیاسی سازش کہے۔ اقتدار کا پلٹا بدلا تو منظر بھی الٹ گیا: وہی دفعات، وہی عدالتیں، وہی جیلیں، اب نئے مخالفین کے خلاف استعمال ہونے لگیں۔ انتخابی موسم میں مواصلاتی بندش، نتائج میں تاخیر اور فارموں کی غیر شفاف ہینڈلنگ کے الزامات نے عوامی بداعتمادی کو مزید گہرا کیا، اور بعد کے اقدامات نے معمول کی عدالتی کارروائی کو مزید کمزور کیا۔
اس دائرے میں عدلیہ کا کردار ہمیشہ فیصلہ کن رہا اور اکثر متضاد بھی۔ کبھی آمریت کے سامنے “نظریۂ ضرورت” کے تحت غیر آئینی اقدامات کو جائز قرار دیا گیا؛ کبھی عارضی آئینی حکم ناموں کے تحت دوبارہ حلف لے کر نئی طاقتوں سے ہم آہنگی ظاہر کی گئی؛ اور کبھی ذاتی مفادات، تقرریوں کی امید یا سیاسی وابستگی نے فیصلوں کو متاثر کیا۔ ازخود نوٹس کے بے محابا استعمال، غیر شفاف بینچ سازی اور مقدمات کی ترجیحی ترتیب میں امتیاز نے عدلیہ کی غیر جانبداری کو مشکوک بنا دیا۔ اندرونی احتساب بھی کمزور رہا: ضابطۂ اخلاق کی مؤثر عمل داری، جج صاحبان کے اثاثہ جات کی شفاف اشاعت، اور شکایات کی غیر جانبدار سماعت جیسے اقدامات ناکافی رہے۔ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے، ہوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہیے اور یہ معیار بارہا مجروح ہوا۔
ذرائع ابلاغ کا رویہ بھی اسی چکر کی ایک اہم کڑی رہا ہے۔ ریاستی اشتہارات اور کاروباری مفادات کے دباؤ، سنسنی خیزی کی دوڑ اور مقبولیت پسندی نے خبر کو رائے میں بدل دیا۔ غیر رسمی بریفنگز اور “چنیدہ حقائق” سے ذہن سازی ہوئی، مخالف بیانیہ دبا دیا گیا، اور کردار کشی کو “تجزیہ” کے نام پر پیش کیا گیا۔ “لفافہ صحافت” اور “پرچی خبر” جیسے رجحانات نے صحافتی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔
اب جو نقشہ ابھرتا ہے وہ یوں ہے: نااہلی اور مواخذے کی دفعات کو لچک دار رکھا جاتا ہے تاکہ حالات کے مطابق ان کی سختی یا نرمی کا تعین کیا جا سکے؛ سیاست شدت اختیار کرے تو مقدمات عام عدالتوں سے ہٹا کر خصوصی یا فوجی عدالتوں میں بھیجے جاتے ہیں؛ طویل قبل از ٹرائل حراست، التوا پر التوا، اور کمزور استغاثہ کے باعث عدالتی عمل خود سزا بن جاتا ہے؛ قانونی تشریحات میں وسعت اور تحدید کے جھول قانون کی پیش بینی کو غیر یقینی بناتے ہیں؛ اور انتخابی موسم میں مواصلاتی بندش، فارموں کی غیر شفاف ہینڈلنگ اور تاخیر براہِ راست احتساب کو انتخابی عمل سے جوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ: عوامی اعتماد ٹوٹتا ہے، معاشرہ تقسیم ہوتا ہے اور سیاست مکالمے کے بجائے بقا کی جنگ بن جاتی ہے۔
:اصلاح کا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر واضح بھی ہے
اول، احتسابی ڈھانچے کی اصلاح کی ضرورت ہے ـ تفتیش اور استغاثہ کو قومی احتساب ادارے سے الگ، آزاد اداروں کے سپرد کیا جائے؛ ادارے کے سربراہ کی تقرری و برطرفی غیر جانبدار اور شفاف طریقے سے، مقررہ غیر قابلِ تجدید مدت کے لیے ہو؛ اور بجٹ علیحدہ ہو، جس کا آڈٹ اور تفصیلات عوام کے سامنے پیش کیے جائیں۔ بدعنوانی کے مقدمات کا اصل فورم عام عدالتیں ہوں؛ سویلین افراد کے لیے اگر کسی خصوصی عدالت کی ضرورت ہو تو اس کا دائرہ کار محدود، عارضی اور عدالتی نظرِ ثانی سے مشروط ہو۔ طریقِ کار کی ضمانتیں بھی ہوں: نوے دن میں چالان، تاخیر پر خودکار ضمانت؛ گرفتاری، التوا اور ضمانت کے تمام احکامات کی وجوہات سمیت عام اشاعت لازم ہو تاکہ کارروائی خود سزا نہ بنے۔
دوم، عدالتی اصلاح کی جائے ـ بینچ سازی اور مقدمات کی تقسیم مکمل شفاف ہو؛ ججوں کے اثاثہ جات کی سالانہ فہرستیں بروقت جاری کی جائیں؛ ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر غیر جانبدار اور بروقت تادیبی عمل ہو؛ اہم فیصلے جامع، مدلل اور بر وقت شائع کیے جائیں۔ عدلیہ کی ادارہ جاتی آزادی کے ساتھ ادارہ جاتی احتساب بھی لازم ہو تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو۔
سوم، ریاستی اشتہارات کی تقسیم کے شفاف اور قابلِ جانچ اصول ہوں؛ ادارتی اور اشتہاری شعبوں کے درمیان ناقابلِ عبور دیوار قائم ہو؛ خبر کی درستی و تلافی کے واضح اور لازم اصول نافذ کیے جائیں؛ اور سوشل میڈیا پر جھوٹی خبر پھیلانے والوں کے خلاف غیرسیاسی مگر مؤثر کارروائی ہو۔ آزاد ادارتی پالیسیوں اور صحافیوں کے تحفظ کے بغیر خبر کمزور اور رائے طاقتور رہتی ہے—اس توازن کو درست کرنا ناگزیر ہے۔
چہارم، سیاست کے لیے ایک نیے میثاقِ جمہوریتِ دوم کی ضرورت ہے، جس میں طے ہو کہ کوئی جماعت ریاستی اداروں کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال نہیں کرے گی؛ نگران انتظام، تبادلے اور تقرریوں کے اصول شفاف ہوں؛ انتخابات سے پہلے کی مقررہ مدت میں اگر کوئی بڑا امیدوار کسی سنگین جرم میں ملوث نہ ہو تو اس کی گرفتاری پر پابندی ہو؛ انتخابی مواصلاتی بندش کی واضح ممانعت ہو؛ اور نتائج کے فارموں کی بروقت اور عام اشاعت لازم ہو۔ عوامی عہدیداروں کے لیے حقیقی ملکیت کے رجسٹر اور سالانہ اثاثہ جاتی گوشوارے لازم ہوں اور مبہم قانونی دفعات سے گریز کیا جائے جو ہر دور میں نئے معنی اختیار کر لیتی ہیں۔
انصاف کا صرف ایک پیمانہ ہونا چاہیے، چاہے فریق طاقتور ہو یا کمزور، حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں۔ اگر آج ہم اس دائرے سے نکلنے کا اجتماعی فیصلہ کر لیں، تو کل ایسا نظام ممکن ہے جس میں اقتدار بدلے مگر اصول نہ بدلیں، اورقانون سب کے لیے یکساں ہو۔ ورنہ تاریخ ہمیں بار بار اسی بند گلی میں واپس دھکیلتی رہے گی، جہاں ہر نیا موڑ پرانا نکلتا ہے، اور ہر نیا نعرہ طاقت کی روایت کا محض ایک اور نیا ایڈیشن ہوتا ہے۔ فیصلہ آج کا ہے، کل کی تاخیر ہمیشہ مہنگی پڑتی ہے۔