اے وسیم خٹک
باجوڑ کے عوام کی نظریں جرگہ کے فیصلے پر جمی ہوئی تھیں۔ امید تھی کہ اگر یہ جرگہ کامیاب ہوگیا تو وہ خطرے کے بادل جو سر پر منڈلا رہے ہیں، چھٹ جائیں گے۔ علاقے میں آپریشن سے بچ جائیں گے اور اپنے گھروں میں سکون سے رہ سکیں گے۔ کیونکہ ناکامی کی صورت میں آپریشن تو ہوگا ہی، انہیں شدید نقصان پہنچے گا۔ اور ظاہر ہے، سوات کے لوگوں کی طرح وہ بھی متاثرین بن جائیں گے، جو ایک مشکل اور تکلیف دہ امر ہے۔ کون اپنا گھر بار چھوڑ کر بھاگنا چاہتا ہے؟ مگر نتیجہ وہی نکلا جو خدشہ تھا—مذاکرات کا دور ناکام ہوگیا۔ اب حالات کی سنگینی ہی سامنے ہے، کیونکہ حکومت، باجوڑ کے عوام اور ٹی ٹی پی ان تینوں میں سے دو حریف پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، تو تیسری یعنی عوام ہی اس کشمکش میں نقصان اٹھائے گی۔
یہ سب کچھ جولائی 2025 کے آخر میں شروع ہوا جب باجوڑ میں امن کے لیے ایک 50 رکنی جرگہ تشکیل دیا گیا۔ اس جرگے میں ماموند، ساپل، برہ قمبرخیل اور دیگر قبائل کے بزرگ، علما، سیاسی رہنما اور مقامی لوگ شامل تھے۔ ان کا واحد مقصد تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بات چیت کے ذریعے امن قائم کیا جائے، جو گزشتہ چند برسوں سے باجوڑ اور آس پاس کے علاقوں میں اپنی سرگرمیاں بڑھا رہی تھی۔ مقامی لوگوں کے لیے یہ جرگہ ایک آخری امید کی کرن تھی، کیونکہ دہشت گردی کے سائے نے ان کی زندگیاں اجیرن کر دی تھیں بچے سکول نہیں جا سکتے، کسان کھیتوں میں محفوظ نہیں، اور ہر روز موت کا خوف۔
مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا، اور ہر دور نے اپنے ساتھ نئی امیدیں اور پرانی مایوسیاں لائیں۔ پہلا دور 28 جولائی کو ہوا۔ جرگہ ممبران نے ٹی ٹی پی کے سامنے پانچ نکاتی مطالبات رکھے: شہری علاقوں سے مکمل انخلا، ہتھیار ڈالنا یا افغانستان واپسی، مقامی لوگوں پر تشدد کا خاتمہ، اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون۔ ٹی ٹی پی نے ان مطالبات پر کوئی صاف جواب نہ دیا، مگر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ جرگے کے ارکان کو لگا کہ شاید یہ ایک اچھا آغاز ہے، لیکن دل میں ایک خدشہ تھا کہ ٹی ٹی پی کا سخت موقف پیش رفت کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔
اگست کے شروع میں دوسرے اور تیسرے دور لوئی ماموند تحصیل میں ہوئے۔ یہاں عارضی جنگ بندی پر بات بنی، اور ٹی ٹی پی سے کہا گیا کہ وہ شہری علاقوں سے نکل کر پہاڑی علاقوں میں چلے جائیں۔ انہوں نے مشروط طور پر ہامی بھری، مگر عملی طور پر کچھ نہ ہوا۔
صاحبزادہ ہارون رشید کی قیادت میں جرگے نے دن رات ایک کیے، مقامی عمائدین نے قبائلی روایات کا سہارا لیا، مگر ٹی ٹی پی کا رویہ دن بدن سخت ہوتا گیا۔ چوتھے اور پانچویں دور تک معاملات اور بھی پیچیدہ ہوگئے۔ ٹی ٹی پی نے نہ صرف باجوڑ چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا بلکہ عجیب و غریب مطالبات پیش کیےجن میں جنوبی اضلاع سے سوات اور ملاکنڈ تک شرعی نظام کا نفاذ، فوج کی نقل و حرکت پر پابندی، اور سیکیورٹی فورسز سے معافی مانگنے جیسے نکات شامل تھے۔ یہ مطالبات نہ صرف غیر عملی تھے بلکہ پاکستان کی خودمختاری اور آئین کے خلاف بھی۔ جرگے نے انہیں مسترد کر دیا، اور یوں تناؤ بڑھتا چلا گیا۔
بالآخر، 10 اگست 2025 کو مذاکرات ٹوٹ گئے جب فوج نے ٹی ٹی پی کے بنیادی مطالبے علاقے سے اضافی فوجی نفری کے انخلاکو مسترد کر دیا۔ ٹی ٹی پی کے مقامی لیڈر نے اعلان کیا کہ اب جرگہ ختم ہے۔ حکام کے مطابق، باجوڑ کے 20 فیصد علاقے میں ٹی ٹی پی کی نقل و حرکت ہے، اور ان میں سے 60 فیصد دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے ہے۔ ٹی ٹی پی کے کمانڈرز جیسے الیاس عرف ملنگ باچہ، قاری گوہر اور سباون نے واضح کہا کہ وہ باجوڑ کے ہیں تو کیوں چھوڑیں؟ یہ انکار نہ صرف مذاکرات کی ناکامی کا سبب بنا بلکہ اب آپریشن کے خدشات کو یقینی بنا دیا۔ سیکیورٹی فورسز نے ٹارگٹڈ آپریشن کی تیاری شروع کر دی ہے، اور ماموند تحصیل کے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔ مقامی لوگوں میں خوف کی لہر ہےوہ سوچ رہے ہیں کہ سوات آپریشن کی طرح یہاں بھی گھر بار چھوڑنا پڑے گا، بچے بھوکے رہیں گے، اور زندگی ایک بار پھر اجڑ جائے گی۔
ماضی میں بھی ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی کئی کوششیں ہوئیں، مگر سب ناکام رہیں۔ 2021 میں جب افغان طالبان نے کابل پر قبضہ کیا، ٹی ٹی پی نے حملے تیز کر دیے۔ اس وقت کابل میں افغان طالبان کی ثالثی سے بات چیت ہوئی، مگر ٹی ٹی پی کے ڈیورنڈ لائن کو نہ ماننے اور سابقہ قبائلی علاقوں میں فوج کی موجودگی کی مخالفت نے اسے ناکام کر دیا۔ 2022 سے 2023 تک ایک اور لمبا سلسلہ چلا، جو نومبر 2022 سے مئی 2023 تک جاری رہا۔ اس دوران ٹی ٹی پی کے مطالبات شرعی نظام کا نفاذ، قیدیوں کی رہائی، اور فوج کی واپسی حکومت کے لیے ناقابل قبول تھے۔ نتیجتاً، اس عرصے میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں 835 دہشت گرد حملے ہوئے، جنہوں نے سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنایا۔ جون 2025 میں پاکستانی قبائلی عمائدین کا وفد کابل گیا، مگر وہاں بھی ٹی ٹی پی کا سخت موقف بدلا نہ۔
یہ ناکامی باجوڑ کے لوگوں کے لیے ایک اور صدمہ ہے۔ ٹی ٹی پی کی منظم تنظیم، بھتہ خوری اور اسمگلنگ سے حاصل ہونے والے مالی وسائل، اور افغان سرزمین سے چلنے والے آپریشنز پاکستان کے لیے ایک مستقل چیلنج بن چکے ہیں۔ حکومت اور فوج کا موقف واضح ہے کہ دہشت گردوں کو کسی رعایت کی اجازت نہیں دی جائے گی، مگر اس کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اب جبکہ جنگ بندی ختم ہوچکی ہے اور آپریشن کا خطرہ سر پر ہے، مقامی آبادی کی آنکھوں میں خوف اور بے بسی نظر آتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں امن، مگر امن کی قیمت کیا ہوگی؟ شاید وقت ہی بتائے گا کہ یہ کشمکش کس موڑ پر پہنچے گی۔