خیبر پختونخوا کے جنگلات پاکستان کے کل جنگلات کا تقریباً 40 فیصد ہیں، مگر لکڑی مافیا کی بے رحمی سے یہ سبز خزانہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر سال ہزاروں ایکڑ جنگلات غیر قانونی کٹائی کی نذر ہو جاتے ہیں، اور درختوں کی کمی کی وجہ سے نہ صرف آب و ہوا متاثر ہوتی ہے بلکہ بارشوں کے دوران لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب بھی شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت اور چند ہزار کی رشوت کے عوض ممکن ہوتا ہے۔
اسی طرح صوبے کے سنگلاخ پہاڑوں پر ماربل کٹنگ مافیا نے یلغار کر رکھی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق سالانہ اربوں روپے مالیت کا ماربل نکالا جاتا ہے مگر قومی خزانے میں معمولی حصہ آتا ہے۔ پہاڑوں کے کٹنے سے نہ صرف قدرتی حسن ماند پڑ رہا ہے بلکہ زیر زمین پانی کی سطح اور زمینی استحکام بھی خطرے میں ہے۔
دوسری طرف دریا کنارے اور نالوں پر قبضے کی صورت میں غیر قانونی تعمیرات عام ہو گئی ہیں۔ دریا کے قدرتی راستوں کو بلاک کر کے ہوٹل، مارکیٹیں اور رہائشی کالونیاں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بارشوں کے موسم میں پانی کا بہاؤ رکاوٹ سے ٹکرا کر بستیوں اور شہروں میں داخل ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ صرف 2022 کے مون سون میں خیبر پختونخوا میں 600 سے زائد افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہوئے، جس کی ایک بڑی وجہ یہی غیر قانونی تعمیرات تھیں۔
جب وفاقی حکومت ان مافیاز کے خلاف کارروائی کرنے نکلتی ہے تو فائلوں اور کاغذی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ عدالتوں کے اسٹے آرڈرز سامنے آ جاتے ہیں۔ یوں طاقتور لوگ قانون کے پیچھے چھپ جاتے ہیں اور غیر قانونی منصوبے مزید پھلتے پھولتے ہیں۔ انصاف کے ایوان مافیاز کے لئے ڈھال بن جاتے ہیں، جبکہ عوامی مفاد ہمیشہ کے لئے دفن ہو جاتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ جب انہی مافیاز کے بنائے گئے رکاوٹیں اور غیر قانونی تعمیرات بارشوں اور سیلاب کے دوران تباہی مچاتی ہیں، تو یہی لوگ سب سے پہلے متاثرین بن کر حکومت سے امداد اور معاوضہ مانگنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ یعنی پہلے وہ قوم کے وسائل لوٹتے ہیں، قدرت کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور پھر اپنی تباہی کا بوجھ بھی عوام کے ٹیکسوں پر ڈال دیتے ہیں۔
آج خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں جو بربادی ہو رہی ہے اسکی ساری ذمہ داری خیبر پختونخوا حکومت، لوکل ایڈمنسٹریشن کی طرف سے دیے جانے والے غیر قانونی این او سی اور ٹمبر اور ماربل مافیا کا راج ہے – سونے پر سوہاگا عدالتوں کا ان مافیا کو سٹے دے دے کر بچانا ہے – عوام کو ان تمام لوگوں کو پکڑنا ہوگا تاکہ ایسے نقصان سے عوام اور ملک کو بچایا جا سکے۔