GHAG

کلائمیٹ چینج کے چیلنجز اور پختونخوا کی تباہی

اے وسیم خٹک

خیبر پختونخوا کی سرزمین، جو کبھی سرسبز وادیوں، گھنے جنگلات اور بہتے دریاؤں کی خوبصورتی سے جگمگاتی تھی، آج سیلاب کی تباہی، کلائمیٹ چینج کی شدت اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی زد میں ہے۔ ہر سال آنے والے سیلاب نہ صرف انسانی جانوں اور مال کی بربادی کا باعث بنتے ہیں بلکہ یہ ایک سنگین ماحولیاتی بحران کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ 2010 کے تباہ کن سیلاب سے لے کر حالیہ جولائی کے سیلاب تک، صوبے نے بار بار اس آفت کا سامنا کیا ہے، مگر اقدامات کی کمی اور کرپشن کے اسکینڈلز نے صورتحال کو مزید ابتر بنا دیا ہے۔

کلائمیٹ چینج کی وجہ سے شدید بارشیں، غیر معمولی گرمی، خشک سالی اور لینڈ سلائیڈنگ معمول بنتی جا رہی ہیں، جو معیشت، امن و امان اور غربت جیسے مسائل کو کئی گنا بڑھا رہے ہیں۔
کلائمیٹ چینج کا سب سے بڑا سبب جنگلات کی تباہی ہے، جو خیبر پختونخوا میں ٹمبر مافیا کی ملی بھگت سے تیزی سے ہو رہی ہے۔ ارندو گول میں ٹمبر کرپشن اسکینڈل اس کی ایک دلخراش مثال ہے، جہاں محکمہ جنگلات کی غفلت اور بدعنوانی سے قومی خزانے کو 8.667 بلین روپے کا ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

یہ علاقہ اپنے گھنے جنگلات اور اعلیٰ معیار کی دیودار، کیل، فر اور سپروس لکڑی کے لیے مشہور تھا، مگر 2016 کی پالیسی کے تحت ضبط شدہ لکڑی مقامی مالکان کو واپس کرنے کا فیصلہ بدعنوانی کی نذر ہو گیا۔ تقریباً 70,000 مکعب فٹ لکڑی نکالنے کے بعد پالیسی میں اچانک تبدیلی سے بقیہ 750,000 مکعب فٹ لکڑی نیلام نہ ہو سکی، اور ٹمبر مافیا نے ارندو گول اور براول کے جنگلات سے لاکھوں مکعب فٹ قیمتی لکڑی چوری کر کے درگئی ڈپو تک پہنچا دی۔ چکدرہ کی پریس کانفرنس میں انکشاف ہوا کہ حکومتی افسران بھی اس ملی بھگت میں شامل تھے۔ 2019 میں مزید 5907 مکعب فٹ قیمتی درختوں کی چوری رپورٹ ہوئی، جو ماحولیات اور قومی معیشت دونوں کے لیے خطرہ ہے۔

جنگلات کی یہ بے دریغ کٹائی سیلاب کی شدت میں اضافہ کر رہی ہے۔ درخت نہ ہونے سے مٹی کا کٹاؤ بڑھتا ہے، لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے، اور بارش کا پانی بے قابو ہو کر دریاؤں میں بہہ جاتا ہے۔ کلائمیٹ چینج کی وجہ سے بارشوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر جنگلات کی حفاظت نہ ہونے سے یہ آفت مزید تباہ کن بن جاتی ہے۔ سلیم صافی نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ جنید اکبر، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب کے پاس نوے فیصد جنگلات کاٹنے کا ٹھیکہ ہے، اور اب کے ہونے والے سانحوں کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں۔ یہ الزامات صوبے میں جنگلات کی تباہی اور سیلاب کی شدت کو مزید واضح کرتے ہیں، کیونکہ اگر یہ ٹھیکے شفاف ہوتے اور کٹائی محدود ہوتی تو شاید سیلاب کا نقصان کم ہوتا۔

پی ٹی آئی کی تیرہ سالہ حکومت میں سیلاب کی وارننگز کے باوجود کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ 2010 میں نوشہرہ کے ریڈار کی خرابی کی خبر بریک کی گئی تھی، مگر آج تک ریڈار ناکارہ ہیں۔ این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس جیسے ادارے بنے، مگر وہ صرف کاغذوں اور سیمیناروں تک محدود رہے۔ دریا کے کنارے مضبوط نہیں کیے گئے، جنگلات کی کٹائی نہ رکی، اور بجٹ کرپشن کی نذر ہو گئے۔ مالم جبہ، گندم، صحت کارڈ، کوہستان کا چالیس ارب کا اسکینڈل اور بی آر ٹی میگا اسکینڈل جیسے کیسز نے اربوں روپے ضائع کیے، جو سیلاب سے بچاؤ پر لگ سکتے تھے۔ اگر یہ پیسہ عوام کی جان و مال بچانے پر استعمال ہوتا تو آج صوبے کی تصویر مختلف ہوتی۔

سیلاب کے تناظر میں سیاست بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ قدرتی آفات کو سیاسی جماعتیں اپنی چمک دمک کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں سیلاب آئے تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی تنقید کرتی ہیں، سندھ میں پانی بھرے تو پی ٹی آئی اور ن لیگ نشانہ بناتے ہیں۔ مگر امریکہ اور یورپ جیسے ممالک میں آفات پر عملی حل پر زور دیا جاتا ہے، نہ کہ الزامات کی سیاست۔ پاکستان کلائمیٹ چینج سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں شامل ہے، اور آنے والے سالوں میں یہ مسائل مزید شدید ہوں گے۔

معاشی و ماحولیاتی ماہرین کا مطالبہ ہے کہ جنگلات کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں، ٹمبر مافیا کے خلاف آپریشن تیز کیا جائے، اور شفاف انکوائری سے ذمہ داران کو سزا دی جائے۔ مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژنز میں 617 آرا ملیں بند کی گئیں، 300 سے زائد مجرم گرفتار ہوئے، اور 800 گاڑیاں ضبط ہوئیں، مگر یہ کافی نہیں۔ کلائمیٹ چینج سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسیاں، نکاسی آب کے نظام کی بہتری، اور مقامی سطح پر تیاری ضروری ہے۔ اگر جنگلات کی حفاظت اور کلائمیٹ چینج پر توجہ نہ دی گئی تو ہر سال یہی تباہی، یہی آنسو اور یہی نقصان ہماری قسمت رہیں گے۔ وقت ہے کہ سیاست کو ایک طرف رکھ کر قوم اجتماعی شعور اور عملی حکمت عملی اپنائے، ورنہ پانی بہتا رہے گا اور زندگیاں ڈوبتی رہیں گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts