اے وسیم خٹک
کرک کے پتھریلے پہاڑوں کے نیچے قدرت نے جو خزانہ چھپا رکھا تھا، وہ آج ایک کھلی چوری کی داستان بن چکا ہے۔ ضلع کرک میں تیل اور گیس کے تقریباً 48 کنوئیں موجود ہیں، اور مزید تحقیقات کے ساتھ یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق، کرک پاکستان کو روزانہ 25,890 بیرل خام تیل فراہم کرتا ہے۔ اگر اس تیل کی موجودہ قیمت 90 ڈالر فی بیرل کے حساب سے دیکھیں تو کرک روزانہ پاکستان کو تقریباً 44 کروڑ 27 لاکھ 19 ہزار روپے (442,719,000) کی دولت دیتا ہے۔ سالانہ بنیادوں پر یہ رقم 16 ارب روپے سے تجاوز کر جاتی ہے۔
اسی طرح گیس کے شعبے میں، کرک سے روزانہ 19,605,200 ایم سی ایف (MCF) گیس نکالی جاتی ہے۔ ایک ایم سی ایف تقریباً 1032 کیوبک فٹ کے برابر ہے، جس کی مالیت فی ایم سی ایف 47,974 روپے بنتی ہے۔ اس حساب سے، کرک پاکستان کو روزانہ 9 کروڑ 40 لاکھ 53 ہزار 986 روپے (94,053,986) کی قدرتی گیس فراہم کرتا ہے۔ ماہانہ بنیاد پر یہ رقم 2 ارب 82 کروڑ 16 لاکھ 19 ہزار 594 روپے (2,82,16,19,594) بنتی ہے، جبکہ سالانہ یہ رقم 33 ارب 85 کروڑ 94 ہزار 332 روپے (33,85,94,43,332) تک پہنچ جاتی ہے۔
مجموعی طور پر، کرک ضلع صرف ایک سال میں پاکستان کو 34 ارب 30 کروڑ 21 لاکھ 54 ہزار 344 روپے کی دولت فراہم کرتا ہے۔ مگر اس میں کرک کو رائلٹی کے نام پر صرف دس فیصد (10%) حصہ دیا جاتا ہے۔ یہ رقم سول انتظامیہ اور اسمبلی کے نمائندوں کی بدعنوانی اور رشوت خوری کی نذر ہو جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کرک کی زمین پر ترقی کا کوئی واضح نشان نظر نہیں آتا۔
حال ہی میں ایک اور ساڑھے سات ارب روپے کے اسکینڈل نے سر اٹھایا ہے، جس میں کرک کے عوام پر ایک اور شب خون مارا گیا ہے۔ اس معاملے میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی، لیکن جس طرح کروڈ آئل کے معاملے میں انصاف کی امید جھاگ کی طرح بیٹھ گئی، اسی طرح اس نئے اسکینڈل میں بھی انکوائری کمیٹی کے اہم رکن کو ہٹا دیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ معاملہ بھی دبایا جانے والا ہے۔ اس اسکینڈل میں کرک کے ایم این اے شاہد خٹک کا نام سامنے آ رہا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بدعنوانی کا یہ سلسلہ اعلیٰ سیاسی سطحوں تک پھیلا ہوا ہے۔
کروڈ آئل اسکینڈل: ایک غیر حل شدہ المیہ
کروڈ آئل معاملہ کرک کی بدعنوانی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ 2015 سے 2017 کے دوران تقریباً 142 ارب روپے مالیت کا خام تیل سرکاری ریکارڈ سے غائب کیا گیا۔ روزانہ کی بنیاد پر 24,000 بیرل تیل چوری کیا جاتا رہا۔ ایف آئی اے کی تحقیقات نے ثابت کیا کہ یہ منظم نیٹ ورک مول پاکستان، مقامی پولیس، ضلعی افسران، اور ٹینکر مافیا کے درمیان کام کر رہا تھا۔
چوری کے طریقے انتہائی منظم تھے: پائپ لائنوں میں چھپے سوراخوں سے، جعلی رسیدوں کے ذریعے، یا پانی کے باوزرز کو بہانہ بنا کر تیل نکالا جاتا۔ ایک سابق ملازم کے مطابق: “ڈپو بند ہوتے ہی سرخ ٹینکرز کا قافلہ آ جاتا۔ پولیس والے ہر گاڑی پر سے 500 روپے وصول کرتے تھے۔” اندازہ یہ تھا کہ کل پیداوار کا 37% بلیک مارکیٹ میں فروخت ہوتا رہا۔
دو ہزار انیس (2019) میں پشاور ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لے کر تین ماہ میں رپورٹ کا حکم دیا، مگر چھ سال گزرنے کے باوجود نہ کوئی رپورٹ آئی، نہ مجرم سامنے آئے۔ مول پاکستان نے اپنی بریت کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ “ہم نے حکومت کو 12.8 ارب روپے بونس ادا کیا اور علاقے میں اسکول بنوائے۔” مگر سوال یہ اٹھا: اگر وہ بے گناہ ہیں تو پھر 24,000 بیرل روزانہ کون چرا رہا تھا؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ کرک میں آئل ریفائنریاں قائم کی جائیں اور مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ سڑکیں، جو بڑی کمپنیوں کے ٹینکرز نے برباد کر دی ہیں، انہیں دوبارہ تعمیر کیا جائے۔ اگر کرک کی ترقی کی بات کی جائے تو تعلیم، اسپتالوں، اور پینے کے صاف پانی کے مسائل حل کرنے کے لیے کم از کم 30 ارب روپے کا ایک جامع منصوبہ شروع کیا جانا چاہیے۔ مقامی لوگوں کو سستے داموں پر گیس کنکشن فراہم کیے جائیں، اور کرک سے دوسری سوئی گیس لائن بنانے کی کوششیں شروع کی جائیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ کرک کی ساری سیاسی نمائندگی پچھلے دس سال سے تحریک انصاف کے ہاتھ میں ہے، لیکن افسوس کہ کرک کی ترقی کے معاملے میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ کرک کو اپنے وسائل کے بل پر کویت جیسی ترقی یافتہ مثال بنانا ممکن ہے، مگر اس کے لیے سیاسی عزم، عوامی بیداری، اور اجتماعی شعور کی ضرورت ہے۔
کرک کے مسائل محض گلیوں اور کوچوں کی پختگی تک محدود نہیں ہیں؛ یہاں کے سات لاکھ پشتون باشندوں کی زندگی اور مستقبل کا سوال ہے۔ اس قومی مسئلے کا حل صرف قومی سوچ اور عوامی مفاد پر مبنی پالیسیوں سے ہی ممکن ہے۔ سن 2000 کے بعد جب سے یہاں گیس کی پیداوار شروع ہوئی، تو کہا جاتا تھا کہ کرک کے ذخائر سوئی سے بھی زیادہ وسیع ہیں۔ جب گیس کی پیداوار یہاں سے شروع ہو کر ڈی آئی خان اور پشاور تک پھیلی، تو مقامی لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالی گئی کہ یہ فری گیس زون ہے، جہاں لوگوں کو مفت میں گیس ملے گی۔ اس لیے لوگوں نے میٹر لگوا لیے، مگر بل ادا کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ نتیجتاً، ایک وقت ایسا آیا کہ یہاں کے لوگوں کی گیس بند کر دی گئی۔ احتجاجی مظاہرے ہوئے، مگر مسئلہ حل نہ ہو سکا، اور آج بھی علاقے کے مکین گیس کی بندش سے پریشان ہیں۔
مول کمپنی کے زیر نگرانی، مکوڑی، منزلی بلاک، ٹل بلاک، اور سام پوائنٹ سے روزانہ 16 ہزار بیرل تیل اور تین سو ملین کیوبک فٹ گیس پیدا ہوتی ہے، جبکہ کروڈ آئل کی پیداواری قیمت اس کے علاوہ ہے۔ گزشتہ دو عشروں سے، مول کمپنی کے آپریٹڈ آئل فیلڈ سے حکومت کو روزانہ 60 کروڑ روپے کی آمدنی ہو رہی ہے، جس میں سے پچاس فیصد حصہ صوبہ خیبر پختونخوا کو ملتا ہے۔ مگر صوبے کے حصے میں آنے والی اس رقم میں سے صرف 10 فیصد کرک کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جاتا ہے، جبکہ باقی رقم انتظامیہ اور سیاسی نمائندوں کی بدعنوانی کی نذر ہو جاتی ہے۔
یہ کہانی صرف تیل اور گیس کی چوری کی نہیں، بلکہ ایک نظام کی مکمل ناکامی کی ہے۔ جب عدالتی احکامات فائلوں میں دب جائیں، جب ادارے اپنے فرائض سے منہ موڑ لیں، اور جب ریاست طاقتور چوروں کے سامنے گھٹنے ٹیک دے، تو پھر کرک جیسے علاقے قومی خزانے سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا وقار بھی کھو دیتے ہیں۔ اب نئے ذخائر کی دریافت نے ایک اور موقع دیا ہے: کیا اس بار ریاست عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی، یا پھر یہ خزانہ بھی چوروں کے ہتھے چڑھ جائے گا؟