پشاور ( غگ رپورٹ ) خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ باجوڑ سے انٹلیجنس بیسڈ ٹارگٹڈ آپریشن کے ذریعے عسکریت پسند گروپوں کو نکالا گیا ہے ، وہاں امن قائم ہوچکا ہے تاہم دہشت گردی کے مستقل خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف وفاقی حکومت مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے تعاون کرے بلکہ افغانستان کے ساتھ تعاون ، روابط کو بھی بڑھایا جائے ۔
خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ خیبرپختونخوا کو بدامنی کا سامنا ہے اور وزیرستان سمیت بعض دیگر علاقوں میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم فورسز کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں باجوڑ میں امن قائم کرکے متاثرین کو تحصیل ماموند میں واپس اپنے گھروں کو واپس بھیجا گیا ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور اس بات پر بھی توجہ دی جائے کہ افغانستان کے ساتھ معاملات کو درست کیا جائے ۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کی پولیس دیگر اداروں کے ساتھ ملکر قیام امن کے لیے بھرپور کردار ادا کررہی ہے اور بہت جلد صوبے میں امن قائم ہوسکے گا ۔