بیر سٹر ڈاکٹر عثمان علی
پاکستان میں طاقتوروں اور کمزوروں کے درمیان فرق کبھی بھی پوشیدہ نہیں رہا۔ اسی فرق کی لاتعداد کہانیوں اور بڑی مثالوں میں سے ایک بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کی ہے۔ یہ دراصل پورے پاکستان کے طاقت کے ڈھانچے کی کہانی ہے۔ یہاں جب کوئی شخص طاقتور حلقوں کی آنکھوں کا تارا بنتا ہے تو اسے نہ صرف سر پر بٹھایا جاتا ہے بلکہ پورے ملک کے وسائل، قوانین اور ادارے اس کے قدموں کے نیچے رکھ دیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک ریاض جیسے افراد ایک کاروباری شخصیت سے بڑھ کر سیاست اور طاقت کے کھیل کے مرکزی کھلاڑی بن جاتے ہیں۔ ان کی طاقت اس وقت عیاں ہوئی جب بحریہ ٹاؤن کے منصوبوں کے آغاز پر اعتراضات کرنے والے ہی کچھ عرصے بعد اس کے ساتھ شریکِ سفر اور شریکِ کار بن گئے۔ جرنیل، جج، بیوروکریٹ، وکیل، صحافی اور سیاستدان ، سب اس کے قافلے کا حصہ بنے۔
ملک ریاض نے چند دہائیوں میں محض رئیل اسٹیٹ بزنس مین بننے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ملکی سیاست کے رخ متعین کرنے تک جا پہنچے۔ بہت سے دیگر واقعات کے علاوہ، جب جرنیلوں کی ایما پر دھرنوں کے دوران میاں نواز شریف پر دباؤ بڑھایا گیا تو آدھی رات کو وزیرِاعظم ہاؤس تک ایک منتخب وزیرِاعظم کو مستعفی ہونے کا پیغام پہنچانے والا کوئی سیاست دان یا جرنیل نہیں بلکہ ملک ریاض تھے۔ یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ ریاست کے طاقتور اداروں کے سامنے ان کا مقام کیا تھا اور وہ انہیں کس حد تک استعمال کرتے رہے۔
دوسری طرف تقریباً تمام سیاسی جماعتیں بھی ان کے منصوبوں سے مالی یا سیاسی فائدے لے کر ان کی احسان مند رہیں۔ کسی کو بیرونِ ملک عیاشیاں کروائی گئیں، کسی کو گھر بنا کر دیا گیا، اور کسی کو ہیروں کی انگوٹھی اور ہاروں سے نوازا گیا۔ وہ تمام پارٹیوں کے انتخابات میں بھرپور مالی معاونت کرنے کے علاوہ جرنیلوں کے اشارے پر حکومت مخالف دھرنوں تک کی سرپرستی کرتے رہے۔ جرنیل اور جج ریٹائرمنٹ کے اگلے ہی دن اپنے ہی اداروں میں بھاری تنخواہوں اور بے شمار مراعات کے ساتھ نوکریاں پاتے رہے، جن کا کام محض اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے ان کے ہر سیاہ کو سفید کرنا ہوتا تھا۔ میڈیا کو اشتہارات اور مراعات کے ذریعے اس حد تک زیرِ اثر کیا گیا کہ آج بھی بڑے چینلز ان کے خلاف بولنے سے ہچکچاتے ہیں، بلکہ ان کا نام تک لینے سے گریز کرتے ہیں۔
باقی تو ہر ادارے میں اہم عہدوں پر تبادلوں اور تعیناتیوں کے لیے ملک ریاض کا ایک اشارہ ہی کافی ہوتا تھا۔ بے شمار واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ملک ریاض ہی اصل حاکم تھا، وہی قانون تھا۔ لیکن طاقت کی یہ رفاقت ہمیشہ دائمی نہیں رہتی۔ جب ایسے افراد طاقتور حلقوں کے کام آتے ہیں تو ان کے ہر غیر قانونی فعل کو نظرانداز کیا جاتا ہے، اور جب وہ بوجھ بننے لگتے ہیں تو ان پر گرفت سخت کر دی جاتی ہے۔ آج ملک ریاض زیرِ عتاب ہیں، مگر اس کی وجوہات شاید وہ جانتے ہیں یا وہ ادارے جو اب ان کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ انہوں نے دفاع کے بجائے عوامی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کی، اپنے آپ کو مظلوم اور ہیرو بنا کر پیش کیا، جس سے معاملات مزید بگڑ گئے اور لاکھوں لوگوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا۔ ملک ریاض اپنے کیے کا حساب دینے کے بجائے اُن لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے جن کی جمع پونجی سے وہ رئیل اسٹیٹ ٹائیکون بنا۔
اصل نقصان مگر عام لوگوں کا ہو رہا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگی کی جمع پونجی خرچ کر کے بحریہ ٹاؤن میں گھر بنائے۔ یہ لوگ نہ سیاست میں شامل تھے اور نہ طاقت کے کھیل میں۔ ان کی توقع صرف یہ تھی کہ انہیں پرسکون اور معیاری زندگی ملے گی۔ ہر حکومت، ہر جج، ہر جرنیل اور ہر سیاستدان بار بار ملک ریاض کو اثاثہ قرار دیتا رہا اور بحریہ ٹاؤن کے منصوبوں کو محفوظ اور قابلِ اعتماد کہتا رہا۔ اس لیے انہیں یقین تھا کہ یہ سرمایہ کاری محفوظ ہے۔
مگر آج طاقت کے کھیل نے سب سے زیادہ غیر یقینی انہی مکینوں پر مسلط کر دی ہے۔ ملک ریاض کا کچھ نہیں بگڑ رہا، وہ دبئی میں اپنے خاندان سمیت خوشحال زندگی گزار رہا ہے اور پاکستان میں پاکستانیوں سے کمائے گئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ یہ مکین صرف رہائش کے خواہشمند نہیں بلکہ اس ماحول اور آسائشوں کے بھی منتظر تھے جو بحریہ ٹاؤن کو منفرد بناتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ خوف بیٹھ چکا ہے کہ اگر انتظامیہ بدلی تو سہولتوں کا نظام درہم برہم نہ ہو جائے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں حکومت کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ محض بیانات، تسلیاں اور اعلانات کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ حکومت کھل کر واضح پالیسی دے کہ اگر بحریہ ٹاؤن ملک ریاض کی انتظامیہ سے لے لیا جاتا ہے تو اس کا مستقبل کیا ہوگا؟ ان مکینوں کو اس بحرانی کیفیت سے نکالنے کے لیے ان کی رجسٹرڈ رہائشی تنظیموں اور ایسوسی ایشنز کو اعتماد میں لیا جائے اور ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے جس میں ان کے حقوق، خدمات اور سرمایہ مکمل طور پر محفوظ ہوں۔ ملک ریاض بھی قانونی طور پر پابند ہے کہ وہ مکینوں کے لیے پہلے کی طرح سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائے، اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو مکینوں کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ مل کر اُس کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔
ساتھ ہی، اگر واقعی اس کا کوئی احتساب ہو رہا ہے تو اس کا دائرہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اگر ملک ریاض نے غیر قانونی اقدامات کیے ہیں تو ان کی سزا ضرور ہونی چاہیے، مگر اس پورے عمل میں شریک طاقتور طبقات ، جرنیل، جج، بیوروکریٹ، سیاستدان اور صحافی ، سب کو بے نقاب کیا جائے اور جواب دہ بنایا جائے۔ جب تک اس ملک میں طاقتوروں کو بچا کر صرف مہرے کٹتے رہیں گے، یہ کھیل ختم نہیں ہوگا۔
پاکستان کے طاقتور حلقوں کو اب اس تجربے سے سبق لینا ہوگا۔ اپنے وقتی مفادات کے لیے ایسے کردار پیدا نہ کریں جو بعد میں پورے ملک کے لیے عفریت بن جائیں۔ ریاست کے اداروں کو اپنی طاقت عوام کے فائدے کے لیے استعمال کرنی چاہیے، نہ کہ چند افراد کی جیبیں بھرنے کے لیے۔ اور حکومت کو چاہیے کہ وہ بحریہ ٹاؤن کے لاکھوں رہائشیوں کو غیر یقینی اور ذہنی اذیت سے نکال کر ایک ایسا واضح لائحہ عمل دے جس سے ان کی زندگیاں اور مستقبل محفوظ ہو سکیں۔ کیونکہ اصل مسئلہ طاقت کے کھیل کا نہیں، بلکہ عام شہری کا ہے جو صرف اپنے گھر میں سکون چاہتا ہے۔
آخر میں سوال وہی ہے: کیا ریاست اپنے شہریوں کو یہ باور کرا سکے گی کہ وہ صرف طاقتوروں کے لیے نہیں بلکہ عوام کے لیے بھی وجود رکھتی ہے؟ اگر نہیں تو تاریخ پھر یہی لکھے گی کہ پاکستان میں اصل قصور وار ہمیشہ کمزور رہا اور طاقتور ہمیشہ معاف ہو گیا۔