پشاور ( غگ رپورٹ ) افغان میڈیا اور بعض معتبر صحافیوں نے انکشاف کیا ہے کہ افغان طالبان کے سربراہ مولوی ہیبت اللہ کی خصوصی ہدایت پر افغانستان کے سابق صدر اور ممتاز سیاسی شخصیت حامد کرزئی کو افغانستان سے بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی کو باقاعدہ حکم جاری کیا گیا ہے کہ وہ حامد کرزئی سے ملاقات کرکے ان کو ” باعزت” طریقے سے کابل اور افغانستان چھوڑنے پر آمادہ کرے ۔
رپورٹس کے مطابق اس سلسلے میں تاحال حامد کرزئی یا وزارت داخلہ کا کوئی رسمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم بعض حلقوں کے مطابق اس مجوزہ اقدام یا حکم پر نہ صرف یہ کہ افغان سیاست دان اور عوام سخت تنقید کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں بلکہ بعض اطلاعات کے مطابق وزیر داخلہ سراج الدین سمیت بعض دیگر وزراء نے بھی اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے کیونکہ حامد کرزئی کے ماضی میں اکثر کے ساتھ قریبی مراسم رہے ہیں اور وہ کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں یا حکومت مخالف سرگرمیوں میں بھی حصہ نہیں لے رہے ۔
پشاور میں مقیم ممتاز تجزیہ کار شمیم شاہد کے مطابق حامد کرزئی غیر اعلانیہ طور پر پہلے ہی سے محاصرے میں ہیں اور مختلف اوقات میں ان پر ملک چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تاہم انہوں نے ایسا کرنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ وہ ہر حال میں افغان عوام کے درمیان رہنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہے ہیں تاہم اس مجوزہ اقدام سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ طالبان کی شدت پسند حکومت حامد کرزئی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے ۔