GHAG

کاٹلنگ میں ڈرون کارروائی اور صوبائی حکومت کا مؤقف

عقیل یوسفزئی 

گزشتہ روز مردان کے علاقے کاٹلنگ میں ڈرون کارروائی کے نتیجے میں حکومت اور عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ سات سے 9 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے تاہم بعض سیاسی اور صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں سوات سے آئے ہوئے چرواہے بھی نشانہ بنے ہیں جو کہ وہاں عارضی طور پر مقیم تھے ۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف کے مطابق حکومت نے اس کارروائی کے دوران معصوم شہریوں کی شہادت کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا ہے اور یہ کہ اگر اس کارروائی کے نتیجے میں عام لوگ نشانہ بنے ہیں تو حکومت اس پر معذرت خواہ ہے ۔

دوسری جانب اسی پارٹی کے بعض اہم عہدے داروں نے اس آپریشن کی کھلی مخالفت کرتے ہوئے بیرسٹر سیف کے بیان پر تنقید کی ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے بانی کی پالیسی کے مطابق نہ صرف ڈرون کارروائیوں بلکہ ہر قسم کے آپریشنز کی مخالف ہے ۔ پارٹی کے رہنما عرفان سلیم نے ” ایکس ” پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس کارروائی کی مخالفت اور مذمت کرتے ہیں ۔ اس پوسٹ کو رکن قومی اسمبلی ارباب شیر علی اور متعدد دیگر نے بھی شیئر کی ہے جو اس جانب اشارہ ہے کہ وہ بھی عرفان سلیم کے موقف سے متفق ہیں ۔

سینیر صحافیوں مشتاق یوسفزئی اور رفعت اورکزی سمیت متعدد دیگر نے بھی اس کارروائی میں عام لوگوں کی شہادت کی اطلاعات فراہم کی ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اس واقعے کے تناظر میں غلط بیانی سے کام لیا جارہا ہے ۔ جماعت اسلامی کے اہم رہنما سینیٹر مشتاق احمد خان نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں اس واقعے کی شدید مخالفت کی ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ خیبر پختونخوا کو سیکورٹی کی پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے اور سیکورٹی فورسز ہائی الرٹ پوزیشن میں ہیں تاہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ حملہ اور گروپ اکثر مواقع پر عام لوگوں کے درمیان رہ کر پناہ لیتے ہیں اور ان کو ہیومین شیلڈ کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ یہاں بھی ایسی صورتحال دیکھنے کو ملتی دکھائی دیتی ہے ۔ دستیاب معلومات اور حکومتی موقف سے باآسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ دہشت گرد مذکورہ علاقے میں عام شہریوں کے درمیان قیام پذیر تھے اور جب ان کے خلاف آپریشن کیا گیا تو عام لوگ بھی نشانہ بنے ۔ وار ٹرم میں اس کو ” کولیٹرل ڈیمیجج” کہتے ہیں ۔

اس تمام تر صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ درپیش سیکیورٹی چیلنجر کے تناظر میں احتیاط اور زمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر ضروری بیان بازی سے گریز کیا جائے اور انکوائری رپورٹ کے آنے تک ابہام ، بدگمانی اور کشیدگی پیدا کرنے سے پرہیز کا رویہ اختیار کیا جائے ۔ اگر اس کارروائی میں واقعتاً عام لوگ نشانہ بنے ہیں تو رپورٹ آنے کے بعد ان کی تلافی کردی جائے کیونکہ فورسز کو جاری حالات کے باعث عوام کی حمایت کی اشد ضرورت ہے ۔ اس ضمن میں صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کی بھی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے سیکیورٹی کے معاملات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وفاقی اداروں اور فورسز کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ صوبے کو کافی عرصے سے شدید نوعیت کے حملوں کا سامنا ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے لازم ہے کہ سب ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر مبنی رویہ اختیار کریں ۔ اس بات کو یقینی بنانے کی بھی اشد ضرورت ہے کہ ایسی کارروائیوں سے قبل درست انٹلیجنس معلومات کی حصول اور فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ عام لوگوں کو نقصان پہنچنے کے خدشات یا امکانات کو کم یا ختم کیا جائے ۔ سیاسی حلقوں اور عوام کو جاری حالات کے تناظر میں فورسز کے ساتھ تعاون کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ صوبے کو غیر معمولی حالات کا سامنا ہے اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ اس عید پر اہم قائدین کو عوام سے معمول کی ملاقاتیں کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔

(30 مارچ 2025)

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related Posts